حدیث نمبر: 8140
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : أَنَا شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، وَأَنَا شَهِدْتُهُ حِينَ رَخَّصَ فِيهِ ، وَقَالَ : " اجْتَنِبُوا الْمُسْكِرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب آپ نے گھڑے کی نبیذ سے منع کیا تھا ، اور میں اس وقت بھی موجود تھا ، جب آپ نے اس کی اجازت دی تھی اور یہ ارشاد فرمایا تھا : ” نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابوجعفر رازی نامی راوی کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اور یہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابوجعفر رازی نامی راوی کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے ، اور یہ ثقہ ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8141
وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا قَفَّا وَفْدُ عَبَدِ الْقَيْسِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ ، لِيَنْتَبِذْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا بَدَا لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ شَهْرٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ "لَمَّا قَدِمَ" بَدَلَ : "قَفَّا" . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب عبدالقیس قبیلے کا وفد واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر شخص اپنی ذات کا نگران ہو گا ، اور ہر قوم جس میں چاہے نبیذ تیار کر لے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ آئے “ یہ اس لفظ کی جگہ ہے ” جب وہ چلے گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، وہ حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب وہ آئے “ یہ اس لفظ کی جگہ ہے ” جب وہ چلے گئے “ ۔
حدیث نمبر: 8142
وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبَدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذَهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ . قَالَ : فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ . قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ قَالَ : فَقَالَ : " اشْرَبُوهُ إِذَا طَابَ فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ شَهْرٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبدالقیس قبیلے کے وفد کی آمد کے وقت موجود تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں پینے سے منع کیا ، حنتم دباء مزفت اور نقیر ، راوی کہتے ہیں : حاضرین میں سے ایک صاحب اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں کے پاس برتن نہیں ہوتے ، راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جیسے آپ کو ان لوگوں کی حالت پر ترس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے پی لو ! جبکہ وہ ( مشروب ) پاکیزہ ہو ، لیکن جب وہ خبیث ہو جائے ، تو تم اسے ترک کر دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8143
وَعَنِ الرَّسِيمِ أَنَّهُ قَالَ : وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَانَا عَنِ الظُّرُوفِ . قَالَ : ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ وَخِمَةٌ فَقَالَ : " اشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ الرَّسِيمِ : لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ وفد کی شکل میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ مخصوص برتنوں سے منع کر دیا ، پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : ہماری زمین ایسی ہے ، جس کی آب و ہوا موافق نہیں ہوتی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس میں چاہو پی لو ! لیکن جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کے منہ کو گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن رسیم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، ابن رسیم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8144
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ عَنِ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الْذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ عَبَدِ الْقَيْسِ ، فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ : فََانْجَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتِنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَانْجَمْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن غسان ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میرے والد اس وفد میں شامل تھے ، جو عبدالقیس قبیلے کا وفد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان برتنوں سے منع کر دیا ، راوی کہتے ہیں ، پھر ہم واپس چلے گئے ، پھر جب ہم اگلے سال آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں برتنوں سے منع کر دیا تھا ، تو ہم واپس چلے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس ( برتن ) میں تمہیں مناسب لگے ، تم اس میں نبیذ تیار کر لو لیکن تم کوئی نشہ آور چیز نہ پینا اور جو شخص چاہے ، وہ اپنے مشکیزے کے منہ کو گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 8145
وَعَنِ ابْنِ الرَّاسِبِيِّ عَنِ أَبِيهِ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ هَجَرٍ وَكَانَ فَقِيهًا - أَنَّهُ انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدٍ بِصَدَقَةٍ يَحْمِلُهَا إِلَيْهِ ، فَنَهَاهُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الظُّرُوفِ ، فَرَجَعُوا إِلَى أَرْضِهِمْ تِهَامَةَ ، وَهِيَ أَرْضٌ حَارَّةٌ ، فَاسْتَوْخَمُوا فَرَجَعُوا إِلَيْهِ الْعَامَ الثَّانِي فِي صَدَقَاتِهِمْ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتِنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَتَرَكْنَاهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا قَالَ : " اذْهَبُوا فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ، مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الرَّسِيمِ ، وَقَالَ عَنِ ابْنِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنِ أَبِيهِ فَيُحْتَمَلُ أَنَّ الرَّسِيمِ رَاسِبِيٌّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَفِي إِسْنَادِهِ يَحْيَى بْنُ الْجَابِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن راسبی ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : جن کا تعلق اہل ہجر سے تھا ، اور وہ فقیہ تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ اس وفد میں شامل ہو کر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اپنا صدقہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کر دیا ، وہ لوگ اپنی سرزمین تہامہ کی طرف واپس چلے گئے ، جو گرم سرزمین تھی وہاں کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ، اگلے سال وہ اپنے صدقات لے کر دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں ان برتنوں سے منع کیا تھا ، ہم نے انہیں ترک کر دیا ، تو یہ چیز ہمارے لئے مشکل کا باعث ہو رہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور جس میں تم چاہو اس میں پی لو ! لیکن کوئی نشہ آور چیز نہ پینا ، اور جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ پر بند کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ کے حالات میں بیان کی ہے ، اور یہ بات نقل کی ہے کہ یہ سیدنا راسبی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ ہی راسبی ہوں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ کے حالات میں بیان کی ہے ، اور یہ بات نقل کی ہے کہ یہ سیدنا راسبی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ سیدنا رسیم رضی اللہ عنہ ہی راسبی ہوں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی یحیی بن جابر ہے ، اور جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ، امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8146
وَعَنْ عَاصِمٍ ذَكَرَ أَنَّ الْذِي يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ فِي النَّبِيذِ بَعْدَ مَا نَهَى عَنْهُ . مُنْذِرٌ أَبُو حَسَّانَ ذَكَرَ عَنْ سَمُرَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عاصم کے حوالے سے یہ بات مذکور ہے : انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نبیذ سے منع کرنے کے بعد ، پھر اُس کی اجازت دیدی تھی ۔ منذر ابوحسان نے اسے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8147
وَعَنْ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي جَرَّةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا ، فَرَخَّصَ لِي فِيهَا أَوْ أَذِنَ لِي فِيهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صُحَارٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ وَلَمْ يَجْرَحْهُ . وَالضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : يُضَعِّفُهُ الْبَصْرِيُّونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ آپ مجھے گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی اجازت دیدیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی رخصت دیدی ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن صحار ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، ضحاک بن یسار نامی راوی کو ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اہل بصرہ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن صحار ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی ، ضحاک بن یسار نامی راوی کو ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : اہل بصرہ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8148
وَعَنِ الْأَشَجِّ الْعَصْرِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رُفْقَةٍ مِنْ عَبَدِ الْقَيْسِ لِيَزُورُوهُ ، فَأَقْبَلُوا ، فَلَمَّا قَدِمُوا رَفَعَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَأَنَاخُوا رِكَابَهُمْ ، وَابْتَدَرَهُ الْقَوْمُ وَلَمْ يَلْبَسُوا إِلَّا ثِيَابَ شَعْرِهِمْ ، وَأَقَامَ الْعَصْرِيُّ يَعْقِلُ رِكَابَ أَصْحَابِهِ وَبَعِيرَهُ ثُمَّ أَخْرَجَ ثِيَابَهُ مِنْ عَيْبَتِهِ ، وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِيكَ لِخُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ : مَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَنَاةُ وَالْحِلْمُ " . قَالَ : شَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ شَيْءٌ مِنَ الْخِلْقَةِ ؟ قَالَ : " بَلْ جُبِلْتَ عَلَيْهِ " قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ : " مَعْشَرَ عَبْدِ الْقَيْسِ مَا لِي أَرَى وُجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَحْنُ بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ ، وَكُنَّا نَتَّخِذُ مِنْ هَذِهِ الْأَنْبِذَةِ مَا يُقَطِّعُ اللُّحْمَانَ فِي بُطُونِنَا ، فَلَمَّا نَهَيْتَنَا عَنِ الظُّرُوفِ فَذَلِكَ الْذِي تَرَى فِي وُجُوهِنَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الظُّرُوفَ لَا تَحِلُّ وَلَا تَحْرُمُ ، وَلَكِنْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَلَيْسَ أَنْ تَجْلِسُوا فَتَشْرَبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلَتِ الْعُرُوقُ تَفَاخَرْتُمْ فَوَثَبَ الرَّجُلُ عَلَى ابْنِ عَمِّهِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ فَتَرَكَهُ أَعْرَجَ " . ¤ قَالَ : وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ الْأَعْرَجُ الْذِي أَصَابَهُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ مَاوَى أَبُو الْمَنَازِلِ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساتھیوں سمیت حاضر ہوئے ، جن کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ، تاکہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کریں ، جب وہ لوگ آئے ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے انہوں نے اپنی سواریاں بٹھائیں اور تیزی سے چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، انہوں نے اپنا روایتی سفر کا لباس پہنا ہوا تھا ، لیکن سیدنا اشج عصری رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے انہوں نے اپنے ساتھیوں کی سواریوں کو اور اپنے اونٹ کو باندھا ، پھر انہوں نے اپنے تھیلے میں سے اپنا عمدہ لباس نکالا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب ملاحظہ فرما رہے تھے ، پھر وہ ( عمدہ لباس پہن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں ، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ دونوں کون سی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تحمل مزاجی اور بردباری ، انہوں نے عرض کی : یہ میری جبلت میں شامل ہے یا یہ اپنی کوشش سے حاصل کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہاری جبلت میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبدالقیس قبیلے کے ارکان ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہارے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ متغیر ہو چکے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم ایک ناموافق آب و ہوا والی سرزمین پر رہتے ہیں پہلے ہم یہ نبیذ تیار کیا کرتے تھے ، جو ہمارے پیٹ میں ( اونٹوں کے ) گوشت کو ہضم کروا دیتی تھی ، لیکن جب آپ نے ہمیں برتن استعمال کرنے سے منع کیا ، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا ، جو آپ ہمارے چہروں پر ملاحظہ فرما رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے ، البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، ایسا نہ ہو کہ تم لوگ بیٹھ کر اس مشروب کو پیؤ ، یہاں تک کہ جب رگیں مست ہو جائیں ، تو تم ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کرو ، تم میں سے کوئی ایک شخص اچھل کر اپنے چچازاد کی طرف جائے ، اور اس کو تلوار مارے اور اسے لنگڑا کر کے چھوڑ دے ۔ راوی کہتے ہیں : اُس وقت ان لوگوں میں ایک لنگڑے صاحب موجود تھے ، جن کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن ماوی ابومنازل ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن ماوی ابومنازل ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8149
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَرٍّ أَخْضَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں سبز گھڑے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ تیار کیا کرتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8150
وَعَنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي جَرٍّ أَخْضَرَ ، قَالَ : فَقَدِمَ أَبُو بَرْزَةَ مِنْ غَيْبَةٍ غَابَهَا فَبَدَأَ بِمَنْزِلِ أَبِي بَكْرَةَ ، فَلَمْ يُصَادِفْهُ فِي الْمَنْزِلِ ، فَوَقَفَ عَلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنِ أَبِي بَكْرَةَ فَأَخْبَرَتْهُ ، ثُمَّ أَبْصَرَ الْجَرَّ الْتِي كَانَتْ فِيهَا النَّبِيذُ فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ الْجَرَّةِ ؟ قَالَتْ : نَبِيذٌ لِأَبِي بَكْرَةَ قَالَ : وَدِدْتُ أَنَّكِ جَعَلْتِيهِ فِي سِقَاءٍ ، فَأَمَرَتْ بِذَلِكَ النَّبِيذِ فَجُعِلَ فِي سِقَاءٍ ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرَةَ فَأَخْبَرَتْهُ عَنِ أَبِي بَرْزَةَ فَقَالَ : مَا فِي هَذَا السِّقَاءِ ؟ قَالَتْ : أَمَرَنَا أَبُو بَرْزَةَ أَنْ نَجْعَلَ نَبِيذَكَ فِيهِ قَالَ : مَا أَنَا بِشَارِبٍ مِمَّا فِيهِ لَئِنْ جَعَلْتِ الْخَمْرَ فِي سِقَاءٍ لِيَحِلَّنَّ ، وَلَئِنْ جَعَلْتِ الْعَسَلَ فِي جَرٍّ لِيَحْرُمَنَّ عَلَيَّ ، إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا الْذِي نُهِينَا عَنْهُ . ¤ نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ . فَأَمَّا الدُّبَّاءُ فَإِنَّا مَعْشَرَ ثَقِيفٍ كُنَّا نَأْخُذُ الدُّبَّاءَ فَنَخْرُطُ فِيهَا عَنَاقِدَ الْعِنَبِ ، ثُمَّ نُدْفِئُهَا حَتَّى تُهْدَرَ ، ثُمَّ تَمُوتُ . ¤ وَأَمَّا النَّقِيرُ فَإِنَّ أَهْلَ الْيَمَامَةِ كَانُوا يَنْقُرُونَ أَصْلَ النَّخْلَةِ ، ثُمَّ يَشْدَخُونَ فِيهَا الْرُطَبَ وَالْبُسْرَ ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ حَتَّى يُهْدَرَ ، ثُمَّ يَمُوتُ . وَأَمَّا الْحَنْتَمُ فَجِرَارٌ حُمْرٌ كَانَتْ تُحْمَلُ إِلَيْنَا فِيهَا الْخَمْرُ ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ فَهَذِهِ الْأَوْعِيَةُ الْتِي فِيهَا الزِّفْتُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے لئے ایک سبز گھڑے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ طویل عرصے تک غیر موجود رہنے کے بعد تشریف لائے وہ پہلے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو وہ انہیں گھر نہیں ملے ، وہ ان کی اہلیہ کے پاس ٹھہرے اور ان سے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو ان کی اہلیہ نے انہیں بتایا کہ وہ باہر گئے ہوئے ہیں ) پھر سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے وہ گھڑا دیکھا جس میں ان کے لئے نبیذ تیار کی جاتی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : یہ گھڑا کس لئے ہے ؟ اس خاتون نے کہا: سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے لئے نبیذ تیار کرنے کے لئے ، تو سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ تم وہ نبیذ مشکیزے میں تیار کیا کرو تو اس خاتون نے ہدایت کی کہ ان کے لئے نبیذ مشکیزے میں تیار کی جائے ، جب سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو اس خاتون نے انہیں سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا ، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ مشکیزہ کس لئے ہے ؟ اس خاتون نے کہا: سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ ہم آپ کی نبیذ مشکیزے میں تیار کیا کریں ، تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس میں جو نبیذ ہے ، وہ میں نہیں پیؤں گا ، کیا ایسا ہو گا کہ اگر تم شراب کو مشکیزے میں تیار کر لو تو وہ حلال ہو جائے گی ؟ اور اگر تم نے شہد کو گھڑے میں رکھا ہوا ہو ، تو وہ مجھ پر حرام ہو جائے گا ؟ ہمیں ان باتوں کا پتہ ہے ، جن سے ہمیں منع کیا گیا ہے ، ہمیں دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک دباء کا تعلق ہے ، تو ہم ثقیف قبیلے کے لوگ دباء ( یعنی کدو ) لیتے تھے ، پھر اس میں انگور کے گچھے ڈال دیتے تھے ، پھر اس کو دفن کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ( وہ مشروب ) جوش میں آ جاتا ، پھر وہ جوش ختم ہو جاتا ۔ جہاں تک نقیر کا تعلق ہے ، تو اہل یمامہ کھجور کی جڑ کو کھودتے تھے ، پھر اس میں تازہ اور خشک کھجوریں ڈال دیتے تھے ، پھر وہ اسے چھوڑ دیتے تھے “ یہاں تک کہ ( وہ مشروب ) جوش میں آ جاتا ، پھر وہ جوش ختم ہو جاتا ۔ جہاں تک حنتم کا تعلق ہے ، تو یہ سرخ رنگ کے گھڑے ہوتے تھے ، جنہیں اُٹھا کر ہماری طرف لایا جاتا تھا ، ان میں شراب ہوتی تھی ۔ جہاں تک مزفت کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد وہ برتن ہے ، جن میں زفت ( تارکول نمام چیز ) ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8151
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : جَلَسْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : " مَا لَكُمْ قَدِ اصْفَرَّتْ أَلْوَانُكُمْ ، وَعَظُمَتْ بُطُونُكُمْ ، وَظَهَرَتْ عُرُوقُكُمْ ؟ " قَالُوا : أَتَاكَ سَيِّدُنَا فَسَأَلَكَ عَنْ شَرَابٍ كَانَ لَنَا مُوَافِقًا فَنَهَيْتَهُ عَنْهُ ، وَكُنَّا بِأَرْضٍ وَبِيئَةٍ وَخِمَةٍ قَالَ : " فَاشْرَبُوا مَا بَدَا لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَجِيبَةُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يَكَادُ يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، عبدالقیس قبیلے کا وفد آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم لوگوں کے رنگ زرد ہو رہے ہیں اور پیٹ بڑھ رہے ہیں اور تمہاری رگیں ظاہر ہو گئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : ہمارے سردار آپ کے پاس آئے تھے ، انہوں نے آپ سے مشروب کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جو ہمیں موافق تھا ، تو آپ نے انہیں منع کر دیا تھا ، ہم ایک نا موافق آب و ہوا والی سرزمین پر رہتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جو مناسب لگے وہ پی لو !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عجیبہ بن عبدالحمید ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ غیر معروف ہونے کے قریب ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عجیبہ بن عبدالحمید ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ غیر معروف ہونے کے قریب ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8152
وَعَنِ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : كَانَ يَنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پتھر کے پیالے میں نبیذ تیار کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8153
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةٌ خَضْرَاءُ فِيهَا كَافُورٌ ، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ انْتَبِذِي لَنَا فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُزَاحِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الثَّقَفِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمیر بن مسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سبز گھڑا تحفے کے طور پر پیش کیا گیا ، جس میں کافور موجود تھا ، تو آپ نے وہ کافور ، انصار اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا ( جب وہ گھڑا خالی ہو گیا ) تو آپ نے فرمایا : اے ام سلیم ! اس میں ہمارے لئے نبیذ تیار کر لیا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں مزاحم بن عبدالعزیز ثقفی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں مزاحم بن عبدالعزیز ثقفی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8154
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ : " إِنَّ الْأَوْعِيَةَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا ، فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا يَهِمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قره بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے ہیں ، تمہیں جو مناسب لگے ، اس میں نبیذ تیار کر لو ، لیکن ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد جصاص ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 8155
وَعَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَقَاهُ نَبِيذًا فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ فَقَالَ أَبُو وَائِلٍ : قَدْ رَأَيْتُ تِلْكَ الْجَرَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے انہیں سبز گھڑے میں سے نبیذ پلائی ، ابووائل نے کہا: میں نے وہ گھڑا دیکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اس کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن شقیق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اس کو ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8156
وَعَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ : لَا تَشْرَبْ إِلَّا فِي شَيْءٍ مُوكَئٍ فَقَالَ ابْنُهُ : أَلَيْسَ قَدْ بَلَغَنَا كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَشْرَبُ عِنْدَكُمْ فِي الْجَرِّ الْأَخْضَرِ ؟ قَالَ : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : میں نے حسن سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم صرف اس چیز میں سے پیو ، جس کا منہ بند کیا گیا ہو ، اُن کے صاحبزادے نے کہا: کیا ہم تک
یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاں سبز گھڑے میں تیار کی جانے والی نبیذ پی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نہیں پہنچی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کے ہاں سبز گھڑے میں تیار کی جانے والی نبیذ پی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8157
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، وَعَنِ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ : " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ : نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ ، وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ ، وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ، فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا: هُجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ ، وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ ، فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ . وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ ، فَاشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا مَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " يَبْتَغُونَ أُدْمَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرُ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَالَ أَحْمَدُ : لَا بَأْسَ بِهِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّحْوِ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْأَضَاحِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے ، اور نقیر ، دباء اور مزفت کی نبیذ استعمال کرنے سے منع کیا تھا ، راوی کہتے ہیں ، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا ، پھر مجھے یہ بات مناسب لگی ( کہ میں اس بارے میں حکم تبدیل کر دوں ) میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ، پھر مجھے یہ چیز مناسب لگی کہ یہ چیز دل کو نرم کرتی ہے ، آنسو بہاتی ہے ، آخرت کی یاد دلاتی ہے ، تو تم ان کی زیارت کرو ! لیکن کوئی غلط بات نہ کہنا ، اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کے بارے میں منع کیا تھا کہ تین دن سے زیادہ اسے نہیں کھانا ، پھر مجھے یہ مناسب لگا کہ لوگ اپنے مہمانوں کو اسے تحفے کے طور پر دے سکتے ہیں ، اپنے غیر موجود افراد کے لئے سنبھال کے رکھ سکتے ہیں ؟ تو اب تم جتنا چاہو روک لو ! اور میں تمہیں ان برتنوں کے بارے میں منع کیا تھا ، اب تم جس میں چاہو اس میں پیو ، لیکن نشہ آور چیز نہ پینا ، جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ پر بند کر لے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگ اپنا سالن تلاش کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی دیگر احادیث قبروں کی زیارت کرنے سے متعلق باب میں اور قربانی کے گوشت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ جابر ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس نوعیت کی دیگر احادیث قبروں کی زیارت کرنے سے متعلق باب میں اور قربانی کے گوشت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 8158
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ هَذِهِ الظُّرُوفِ ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا . ¤ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَالَ : " اشْرَبُوا فِيمَا شِئْتُمْ ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ " . ¤ وَنَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَقَالَ : " زُورُوهَا فَإِنَّ فِيهَا عِظَةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں سے منع کیا تھا ، پھر آپ نے ان کے بارے میں رخصت دیدی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت سے منع کیا تھا ، پھر آپ نے ان کے بارے میں رخصت دیدی اور ارشاد فرمایا : ” تم لوگ جس میں چاہو ، اس میں پیو ، اور ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ان کی زیارت کرو ! کیونکہ اس میں نصیحت موجود ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔