کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: برتنوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8111
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ ، وَكَانَتْ كَثِيرَةَ الثَّمَرَةِ ، فَحَرَّمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفَضِيخَ . وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنِ امْرَأَةٍ عَجُوزٍ كَبِيرَةٍ أَنَسْقِيهَا النَّبِيذَ فَإِنَّهَا لَا تَأْكُلُ الطَّعَامَ ؟ فَنَهَاهُ مَعْقِلٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم مدینہ منورہ میں ہوتے تھے ، وہاں پھل بہت زیادہ ہوتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر فضیخ کو حرام قرار دیدیا ۔ ایک شخص ان ( یعنی سیدنا معقل رضی اللہ عنہ ) کے پاس آیا اور اس نے ایک بوڑھی عمر رسیدہ خاتون کے بارے میں دریافت کیا : کہ کیا ہم اسے نبیذ پلا دیں کیونکہ وہ کھانا نہیں کھاتی ہے ، تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (217/20) اخرجه احمد فى المسند (25/5)»
حدیث نمبر: 8112
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقْرَنٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَبِيذِ جَرٍّ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَنَهَانِي عَنْهُ فَأَخَذْتُ الْجَرَّةَ فَكَسَرْتُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا هِلَالٍ الْمُزَنِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نبیذ کا مٹکا لے کر آیا ، میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے مجھے اس سے منع کر دیا ، میں نے وہ مٹکا پکڑا اور اسے توڑ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال مزنی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (447/3)»
حدیث نمبر: 8113
وَعَنِ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبَذُ فِيهِ ، فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ ، فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : يَا أَبَا أَيُّوبَ الْقَرْعُ يَنْتَبِذُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبَذُ فِيهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ فَرَدَّ أَبُو دَاوُدَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ مَسْتُورٌ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق ، جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے ایک دن اُس چیز کا ذکر کیا ، جس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے ، تو کدو کے بنے ہوئے برتن کے بارے میں اُن کے درمیان اختلاف ہو گیا ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس سے گزرے ، اُن لوگوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : اے سیدنا ابوایوب ! کدو میں نبیذ تیار کی جا سکتی ہے ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر مزفت چیز سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، جس میں نبیذ تیار کی جائے ۔ تو انہوں نے کدو کے بارے میں ( جواز کو ) مسترد کر دیا ، ابوداؤد نے ان کے پہلے قول کی مانند جواب نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ابواسحاق جو بنو ہاشم کے غلام ہیں ، وہ مستور ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4000) اخرجه احمد فى المسند (414/5)»
حدیث نمبر: 8114
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَطَبَ ، فَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وِقَاءُ بْنُ إِيَاسٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا : ، اور دباء اور مزفت سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وقاء بن ایاس ہے ، جسے ابوحاتم ابن حبان اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6758) اخرجه احمد فى المسند (17/5)»
حدیث نمبر: 8115
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَنْتَبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ ، وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْجَرِّ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تم لوگ دباء میں ، یا مزفت میں ، یا نقیر میں ، یا مٹکے میں نبیذ تیار نہ کرو ، اور ہر نشہ آور چیز ، حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8116
عَنِ أَبِي شِمْرٍ الضُّبْعَيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ . فَقُلْتُ لَهُ : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوشمر ضبعی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دباء حنتم ، مزفت اور نقیر سے منع کرتے ہوئے سنا ، میں نے ان سے دریافت کیا : کیا یہ حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (18/18) اخرجه احمد فى المسند (64/5)»
حدیث نمبر: 8117
وَعَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ فَقَالَ : الْخَمْرُ حَرَامٌ . فَقُلْتُ : الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : فَأَيْشُ تُرِيدُ ؟ تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ . قُلْتُ : مَا الْحَنْتَمُ ؟ قَالَ : خَضْرَاءُ وَبَيْضَاءُ . قَالَ : قُلْتُ : مَا الْمُزَفَّتُ ؟ قَالَ : كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : وَالنَّقِيرُ . وَقَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بَعْضُهُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْفُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
فضیل بن یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ہم نے شراب کے بارے میں گفتگو شروع کی ، تو انہوں نے فرمایا : خمر حرام ہے ، میں نے کہا: خمر کے حرام ہونے کا ذکر ، اللہ کی کتاب میں ہے ؟ انہوں نے فرمایا ، پھر تم اور کیا چاہتے ہو ؟ کیا تم وہ ( حدیث سننا ) چاہتے ہو ؟ کہ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دباء ، ختم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : حنتم کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ سبز اور سفید رنگ کا ہوتا ہے ، میں نے دریافت کیا : مزفت کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہر مقیر چیز ، خواہ وہ مشکیزہ ہو ، یا اُس کے علاوہ کوئی اور چیز ہو ۔ ایک روایت میں لفظ ” نقیر “ منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں بازار کی طرف گیا ، میں نے چمڑا خریدا ، وہ ہمیشہ میرے گھر میں لٹکا رہتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فضیل بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (57/5 و 86/4)»
حدیث نمبر: 8118
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الْذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَبَدِ الْقَيْسٍ قَالَ : أَوْ لَسْتُ فِيهِمْ إِنَّمَا كُنْتُ مَعَ أَبِي ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ الَّتِي سَمِعْتُمُ الدُّبَّاءَ ، وَالْحَنْتَمَ ، وَالنَّقِيرَ ، وَالْمُزَفَّتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جابر عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : یا شاید ، میں اُن لوگوں میں شامل نہیں تھا ، میں اپنے والد کے ساتھ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو برتنوں میں شراب ( تیار کرنے ) سے منع کر دیا ، یہ وہ برتن ہیں ، جن کے بارے میں تم نے سن رکھا ہے ، یعنی دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2077) اخرجه احمد فى المسند (446/5)»
حدیث نمبر: 8119
وَعَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ قَالَ لِرَجُلٍ مَرَّةً : أَتَذْكُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ . ¤
محمد محی الدین
دلجہ بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک صاحب سے دریافت کیا : کیا تمہیں یاد ہے ؟ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم ، نقیر اور مقیر سے منع کیا تھا ، تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (213/4)»
حدیث نمبر: 8120
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ قَالَ لِرَجُلٍ : أَتَذْكُرُ حِينَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرَ أَوْ أَحَدِهِمَا وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب سے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ بات یاد ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر اور مقیر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان دونوں میں سے کسی ایک سے اور دباء اور حنتم سے منع کیا تھا ، ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (213/4)»
حدیث نمبر: 8121
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ دُلْجَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ : أَتَذْكُرُ يَوْمَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ الْآخَرُ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ . ¤ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : دلجہ بن قیس بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا حکم غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو وہ دن یاد ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم سے منع کر دیا تھا ؟ تو سیدنا حکم رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ، تو دوسرے صاحب نے کہا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3153)»
حدیث نمبر: 8122
وَعَنْ صُهَيْرَةَ بِنْتِ جَيْفَرَ سَمِعْتُ مِنْهَا قَالَتْ : حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَدَخَلْنَا عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَوَافَقْنَا عِنْدَهَا نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَقُلْنَ لَنَا : إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا ، وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ ؟ فَقُلْنَا : سَلْنَ . فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِيضِ ، ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ : أَكْثَرْتُمْ عَلَيْنَا يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ حَرَّمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيذَ الْجَرِّ ، وَمَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَهَا ، ثُمَّ تُدَلِّكُهُ ، ثُمَّ تُصَفِّيهِ فَتَجْعَلُهُ فِي سِقَائِهَا ، وَتُوكِئَ عَلَيْهِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى وَ صُهَيْرَةُ لَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ فِيمَا وَقَفَتْ عَلَيْهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
صہیرہ بنت جیفر بیان کرتی ہیں : ہم لوگ حج کے لئے گئے ، پھر ہم واپسی پر مدینہ منورہ آئے ، ہم لوگ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہاں اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین موجود تھیں ، ان خواتین نے ہم سے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو تم سوال کر لو ، ہم جواب سن لیں گی ، اور اگر تم چاہو ، تو ہم سوال کرتی ہیں ، تم سن لینا ، ہم نے کہا: تم پوچھ لو ! تو ان خواتین نے میاں بیوی کے معاملات ، حیض کے احکام کے بارے میں کچھ چیزوں سے متعلق دریافت کیا ، پھر انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اہل عراق ! گھڑے کی نبیذ کے بارے میں تم نے ہم سے بکثرت سوالات کر لئے ہیں اللہ کے رسول نے گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے ، اور تم خواتین میں سے کسی ایک پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اپنی کھجوروں کو دھوئے پھر انہیں ملے اور پھر انہیں صاف کرے اور پھر انہیں مشکیزے میں ڈال دے ، پھر اس کا منہ بند کر دے ، جب وہ پاکیزہ ہو جائے ، تو پھر اسے پی لے اور اپنے شوہر کو بھی پلا دے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ صہیرہ نامی خاتون سے یعلی بن حکیم کے علاوہ کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ، یہ اس کے مطابق ہے ، جس سے میں واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7117) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (76/24) اخرجه احمد فى المسند (337/6)»
حدیث نمبر: 8123
وَعَنْ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا، فَقَالَ الْأَشَجُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ، وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبُ هَذِهِ الْأَشْرِبَةِ هَيَّجَتْ أَلْوَانَنَا، وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ عَلَى سِقَاءٍ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ " . فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي مِثْلِ هَذِهِ ، وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا . فَقَالَ : " يَا أَشُجُّ إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ فِي مِثْلِ هَذِهِ - وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا - شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ " [وَفَرَّجَ يَدَيْهِ] وَبَسَطَهَا . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِطُولِهِ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ ، وَاخْتَصَرْتُ هَذَا مِنْهُ وَهُوَ بِحُرُوفِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شہاب بن عباد بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبدالقیس قبیلے کے بعض افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ کہتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری وجہ سے بہت خوش ہوئے ، اشج نے کہا: یا رسول اللہ ! ہماری زمین گرانی والی اور نا موافق آب و ہوا والی ہے ، اگر ہم یہ شراب نہ پییں ، تو ہمارے رنگ جوش مارنے لگتے ہیں ، ہمارے پیٹ بڑھ جاتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دباء ختم اور نقیر میں نہ پیؤ ، تم میں سے کوئی ایک شخص ایسے مشکیزے میں پیئے ، جس کا منہ بند کر دیا جاتا ہے ، اشج نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں اتنی سی استعمال کرنے کی اجازت دیدیں ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ ملا کر اس طرح کر کے عرض کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اشج ! اگر میں تمہیں اتنی سی کی رخصت دیدوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو تم اس سے اتنی پی لو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کھلا کر کے پھیلا دیا ( اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔ یہ پوری روایت نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں ، مہمان کی عزت افزائی سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، میں نے یہاں اس کا اختصار نقل کیا ہے لیکن اس کے الفاظ یہی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (206/4)»
حدیث نمبر: 8124
وَعَنِ أَبِي الْقَمُوصِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الْذِينَ وَفَدُوا مِنْ عَبَدِ الْقَيْسَ قَالَ : وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا يُهْدَى نَوْطًا ، أَوْ قِرْبَةً مِنْ تَعْضُوضٍ أَوْ بَرْنِيٍّ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْنَا : هَذِهِ هَدِيَّةٌ . وَأَحْسَبُهُ نَظَرَ إِلَى تَمْرَةٍ مِنْهَا فَأَعَادَهَا مَكَانَهَا وَقَالَ : " أَبْلِغُوهَا آلَ مُحَمَّدٍ " قَالَ : فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنِ أَشْيَاءَ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنِ الشَّرَابِ، فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي دُبَّاءٍ ، وَلَا حَنْتَمٍ ، وَلَا نَقِيرٍ ، وَلَا مُزَفَّتَ ، اشْرَبُوا فِي الْحَلَالِ الْمُوكَئِ عَلَيْهِ " . قَالَ لَهُ قَائِلُنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُدْرِيكَ مَا الدُّبَّاءُ وَالْحَنْتَمُ وَالنَّقِيرُ وَالْمُزَفَّتُ ؟ قَالَ : " أَنَا لَا أَدْرِي مَاهِيَهْ ! ! أَيُّ هَجَرٍ أَعَزُّ " . قُلْنَا : الْمُشَقَّرُ قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا " . ¤ قَالَ : وَكُنْتُ نَسِيتُ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا ، فَأَذْكَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرْوَةَ . قَالَ : " وَقَفْتُ عَلَى عَيْنِ الزَّارَةِ " ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ ، غَيْرَ كَارِهِينَ ، غَيْرَ خَزَايَا ، وَلَا مَوْتُورِينَ " ، إِذْ بَعْضُ قَوْمِنَا لَا يُسْلِمُوا حَتَّى يَخْزَوْا وَيُوتَرُوا ، قَالَ : وَابْتَهَلَ وَجْهُهُ هَاهُنَا مِنَ الْقِبْلَةِ - [يَعْنِي : عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ] - حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ . [ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ] قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ [ أَهْلِ ] الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا فِي الْأَوْعِيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقموص زید بن علی بیان کرتے ہیں : مجھے اس وفد کے ارکان میں سے ایک شخص نے یہ حدیث بیان کی ، جو عبدالقیس قبیلے کا وفد ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا تھا ، وہ صاحب بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو چیزیں پیش کیں ، ان میں ایک نوط یا قربہ ( کجھوریں رکھنے کا مخصوص برتن ) تھا ، جو تعضوض ( کھجور کی مخصوص قسم ) یا شاید برنی کا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ایسا بھی ہوا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھجور کی طرف دیکھا اور پھر اسے ، اس کی جگہ پر دوبارہ رکھ دیا اور فرمایا : اسے محمد کے گھر والوں تک پہنچا دینا ! راوی کہتے ہیں : حاضرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا : یہاں تک کہ انہوں نے شراب کے بارے میں آپ سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دباء ، یا حنتم ، یا نقیر ، یا مزفت میں نہ پینا ، تم حلال ( برتن ) میں پینا ، جس کے منہ کو بند کیا گیا ہو ، ہم میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ دباء حنتم ، نقیر اور مزفت کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں پتہ ہو گا کہ وہ کیا ہوتا ہے ؟ حجر کا کون سا حصہ زیادہ غلبے والا ہے ؟ ہم نے جواب دیا : مشقر ( یہ ایک جگہ کا نام ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس علاقے میں داخل ہوا اور میں نے وہاں کی اقلید ( کنجی ) کو پکڑ لیا ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس حدیث میں سے کچھ حصہ بھول گیا ہوں ، پھر عبیداللہ بن جروہ نے مجھے یاد کروایا ، انہوں نے بتایا کہ میں ” عین زارہ “ کے پاس ٹھہرا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! عبدالقیس قبیلے کے وفد کے لوگوں کی مغفرت کر دے ، جبکہ وہ اپنی رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں زبردستی نہیں کر رہے ، کسی ندامت کے بغیر اور کسی مجبوری کے بغیر ( اسلام قبول کر رہے ہیں ) ، حالانکہ ہماری قوم کے بعض افراد نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا ، جب تک وہ رسوائی کا شکار نہیں ہوئے ، اور مجبور نہیں ہوئے ، راوی کہتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اس طرف سے موڑا ، یعنی قبلہ کے دائیں طرف سے موڑا ، یہاں تک کہ قبلہ کی طرف کیا ، پھر عبدالقیس قبیلے کے لوگوں کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ فرمایا : اہل مشرق میں سب سے بہتر عبدالقیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ ، جو برتنوں کے بارے میں ہے ، وہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8125
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ " . فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ : " لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحُكِيَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر ، دباء اور مزفت سے منع کیا ہے ، اور ارشاد فرمایا ہے : ” تم صرف بند منہ والے برتن میں پیؤ ! “ تو لوگوں نے اونٹوں کی کھالوں کو تیار کیا اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھالوں کا بنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم صرف اس میں پیؤ جو اس کا اوپری حصہ ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس ہے ، اور وہ متروک ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین سے یہ بات نقل کی گئی ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8125
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2730) اخرجه احمد فى المسند (2607)»
حدیث نمبر: 8126
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَبْدِيِّ عَنِ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ فَلَمَّا أَرَادُوا الِانْصِرَافَ قَالُوا : قَدْ حَفِظْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتُمُوهُ مِنْهُ ، فَسَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ . فَأَتَوْهُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا فِي أَرْضٍ وَخِمَةٍ لَا يُصْلِحُنَا فِيهَا إِلَّا الشَّرَابُ قَالَ : " وَمَا شَرَابُكُمْ ؟ " قَالُوا : النَّبِيذُ . قَالَ : " فِي أَيِّ شَيْءٍ شَرِبْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : فِي النَّقِيرِ . قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ " . فَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالُوا : وَاللَّهُ لَا يُصَالِحُنَا قَوْمُنَا عَلَى هَذَا . فَرَجَعُوا فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ فَيَضْرِبَ الرَّجُلُ مِنْكُمُ ابْنَ عَمِّهِ ضَرْبَةً لَا يَزَالُ مِنْهَا أَعْرَجَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَضَحِكُوا قَالَ : " أَيَّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ ؟ " قَالُوا : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ شَرِبْنَا فِي نَقِيرٍ لَنَا فَقَامَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً هُوَ أَعْرَجُ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ . وَأَشْعَثُ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
اشعث بن عمیر عبدی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب ان لوگوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا ، تو ان لوگوں نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہر چیز یاد رکھ لی ہے ، جو تم لوگوں نے آپ سے سنی تھی ، اب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں بھی دریافت کر لو ! وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں ، جس کی آب و ہوا موافق نہیں ہوتی ، وہاں ہمارا گزارہ صرف شراب کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری شراب کس چیز کی ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : نبیذ ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون سی چیز میں اسے پیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : نقیر میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نقیر میں نہ پیؤ ! وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے ، لوگوں نے کہا: ہماری قوم ، تو یہ بات کبھی نہیں مانے گی ، وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند ارشاد فرمایا ، آپ نے فرمایا : تم لوگ نقیر میں نہ پیؤ ! ورنہ ایسا ہو گا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے چچازاد پر ضرب لگائے گا ، جس کے بعد وہ شخص قیامت تک لنگڑا رہے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ ہم نے نقیر میں مشروب پیا تھا ، تو ہم میں سے ایک شخص اُٹھ کر دوسرے کی طرف گیا اور اس نے اسے ضرب لگائی اور پھر وہ ( مضروب شخص ) قیامت کے دن تک کے لئے لنگڑا رہے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اشعث بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1851) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (63/17)»
حدیث نمبر: 8127
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْجَرِّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم اور گھڑے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8128
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ شَيْئًا . ¤ وَكَانَ أَنَسٌ يَكْرَهُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات نہیں سنی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس کو مکروہ قرار دیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3145) اخرجه احمد فى المسند (277/3)»
حدیث نمبر: 8129
وَعَنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : تَحَيَّنْتُ فِطْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهُ بِنَبِيذِ جَرٍّ ، فَلَمَّا أَدْنَاهُ إِلَى فِيهِ إِذَا هُوَ يَنِشُّ فَقَالَ : " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطِ ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کا وقت ہوا ، تو میں آپ کے پاس گھڑے کی نبیذ لے کر آیا ، جب میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کی ، تو اس میں جوش آ چکا تھا ( یا جھاگ بن چکا تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے دیوار پر پھینک دو ! کیونکہ یہ اس شخص کا مشروب ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ان دونوں حضرات ( یعنی امام بزار اور امام طبرانی ) نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن سلیمان بن موسیٰ ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7259)»
حدیث نمبر: 8130
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْهَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ; فَإِنَّهُ حَرَامٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزَّمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم گھڑے کی نبیذ سے منع کر دو ! کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حرام قرار دی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2906) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6403)»
حدیث نمبر: 8131
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْهَ قَوْمَكَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ; فَإِنَّهُ حَرَامٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ كِلَاهُمَا بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزَّمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم اپنی قوم کو گھڑے کی نبیذ سے منع کر دو ! کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حرام قرار دیدی گئی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/17)»
حدیث نمبر: 8132
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُنَادِي : " لَا تَنْتَبِذُوا فِي الْجَرِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَمَكْحُولٌ لَمْ يُدْرِكْ صَفْوَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ، تاکہ میں یہ اعلان کر دوں کہ تم لوگ گھڑے میں نبیذ تیار نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، مکحول نامی راوی نے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7346)»
حدیث نمبر: 8133
وَعَنِ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْأَوْعِيَةِ إِلَّا مَا كَانَ يُوكَى عَلَيْهِ مِنَ الْأَسْقِيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے برتنوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص برتنوں سے منع کیا ہے ، البتہ ان مشکیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، جن کا منہ بند کر دیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8133
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8134
وَعَنِ أَبِي حَاجِبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْمُقَيَّرِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا أَبَا حَاجِبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحاجب نے ، بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقیر ، نقیر ، دہاء اور حنتمہ سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوحاجب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8135
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَقَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمُّ مَعْبَدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور سیدنا قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، مزفت اور نقیر سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اُم معبد ہے ، میں اُس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس کی بقیہ دو اسناد میں سے ، ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8135
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5129)»
حدیث نمبر: 8136
وَعَنِ أَبِي خَيْرَةَ الصُّبَاحِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الْذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنَّا أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُقَيَّرِ . قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ لَنَا بِأَرَاكٍ فَقَالَ : " اسْتَاكُوا بِهَذِهِ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَنَا الْعُشْبَ ، وَنَحْنُ نَجْتَزِئُ بِهِ . فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ ; إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا ، ہم چالیس افراد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دباء ، حنتم ، نقیر اور مقیر سے منع کیا تھا ، راوی کہتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بارے میں پیلو کی مسواک کا حکم دیا اور فرمایا : تم اس کی مسواک کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ہاں ، تو گھاس ہوتی ہے ، تو ہم اسی کا ٹکڑا کاٹ لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! عبدالقیس قبیلے کے لوگوں کی مغفرت فرما ! جبکہ وہ اپنی رضامندی کے ساتھ اسلام قبول کر رہے ہیں ، زبردستی یا مجبوری کے عالم میں اسلام قبول ) نہیں کر رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (368/22)»
حدیث نمبر: 8137
وَعَنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : نُهِينَا عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمیں دباء ، مزفت اور نقیر سے منع کر دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8137
درجۂ حدیث محدثین: رواه الطبراني من طريقين رجال أحدهما ثقات.
حدیث نمبر: 8138
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَمْدَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نقیر ، یا مزفت میں نہ پیؤ ! “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہمدانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8138
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8139
وَعَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ مُوَلَّاةِ قَرَظَةَ قَالَتْ : أَمَّا الدُّبَّاءُ فَهُوَ الْقَرْعُ الْذِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ . وَقَالَ : الْحَنْتَمُ حَنَاتِمُ تَكُونُ بِأَرْضِ الْعَجَمِ فَهُوَ الْذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّقِيرُ أُصُولُ النَّخْلَةِ الْمُخْضَرَّةِ الثَّابِتَةِ الْتِي نَهَى عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَفِيهَا كُلُّهَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُ ذَلِكَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي هَذَا الْبَابِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ فَلَا حَاجَةَ لِهَذَا . ¤
محمد محی الدین
ام معبد ، جو سیدنا قرظہ رضی اللہ عنہ کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : جہاں تک دباء کا تعلق ہے ، تو یہ وہ کدو ہے ، جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ، جہاں تک حنتم کا تعلق ہے ، تو یہ وہ سبز مٹکے ہیں ، جو عجمیوں کی سرزمین میں ہوتے ہیں ، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے نقیر سے مراد کھجور کے درخت کی جڑ ہے جو سبز اور ثابت ہوتی ہے ، اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب میں ایک راوی یحیی بن حارث تیمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اس باب میں صحیح سند کے ساتھ اس کا بیان گزر چکا ہے ، تو اب اس کی ضرورت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (170/25)»