حدیث نمبر: 8012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَ تَمْرَةً فَوَضَعَهَا عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ : " هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ٹکڑا پکڑا پھر آپ نے ایک کھجور پکڑی اور آپ نے فرمایا : یہ اس کا سالن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8013
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ الْخُبْزَ بِالتَّمْرِ وَيَقُولُ : " هَذَا إِدَامُ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ساتھ روٹی کھا لیتے تھے اور یہ فرماتے تھے یہ اس کا سالن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن مروان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن مروان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8014
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَذَا إِدَامُ هَذَا " يَعْنِي التَّمْرَ وَالْخُبْزَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو الطَّيِّبِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اے عائشہ ! یہ اس کا سالن ہے “ ( راوی کہتے ہیں : یعنی کھجور اور روٹی کے بارے میں آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن محمد ابوطیب ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن محمد ابوطیب ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔