حدیث نمبر: 8007
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مَنْ يُحِبُّ التَّمْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو تمر ( کھجوروں ) سے محبت کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8008
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ سَدُوسَ ، فَأَهْدَيْنَا لَهُ تَمْرًا فَقَرَّبْنَاهُ إِلَيْهِ عَلَى نِطْعٍ فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنَ التَّمْرِ فَقَالَ أَنَسٌ : أَيْشُ هَذَا ؟ أَوْ مَا هَذَا ؟ فَجَعَلْنَا نُسَمِّي حَتَّى ذَكَرْنَا تَمْرًا فَقُلْنَا : هَذَا الْجُذَامَى فَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِي الْجُذَامَى وَفِي حَدِيقَةٍ خَرَجَ هَذَا مِنْهَا أَوْ جَنَّةٍ خَرَجَ هَذَا مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ يَعْرِفْهُمُ الْعَلَائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سدوس قبیلے کے وفد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ہم نے آپ کی خدمت میں تمر ( کھجوریں ) پیش کیں ہم نے ایک دستر خوان پر رکھ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کھجوریں لیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کون سی ہیں یا یہ کون سی ہیں ، تو ہم نے ان کے نام بیان کرنا شروع کیے یہاں تک کہ ہم نے تمر کا ذکر کیا ، تو ہم نے کہا: یہ جذامی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جذامی میں برکت دے اور اس باغ میں برکت دے جس میں سے یہ نکلی ہے ( یہاں باغ کے لئے ایک روایت میں لفظ مختلف نقل ہوا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے علائی واقف نہیں ہے ، اور میں بھی ان سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے علائی واقف نہیں ہے ، اور میں بھی ان سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8009
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا هُمْ عِنْدَهُ قُعُودٌ ، إِذْ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ : " تَمْرَةٌ تَدْعُونَهَا كَذَا وَكَذَا وَتَمْرَةٌ تَدْعُونَهَا كَذَا " حَتَّى عَدَّ أَلْوَانَ تَمَرَاتِهِمْ أَجْمَعَ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتَ وُلِدْتَ فِي جَوْفِ هَجَرٍ مَا كُنْتَ أَعْلَمَ مِنْكَ السَّاعَةَ ؟ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَرْضَكُمْ رُفِعَتْ لِي مُنْذُ قَعَدْتُمْ إِلَيَّ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا مِنْ أَدْنَاهَا إِلَى أَقْصَاهَا ، فَخَيْرُ تَمْرَاتِكُمُ الْبَرْنِيُّ يُذْهِبُ الدَّاءَ وَلَا دَاءَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ان سے ارشاد فرمایا : ایک قسم کی کھجور وہ ہے ، جسے تم یہ نام دیتے ہو ایک قسم کی کھجور وہ ہے ، جسے تم یہ نام دیتے ہو یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی کھجوروں کی تمام قسموں کو شمار کروا دیا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگرچہ میں حجر کے علاقے کے درمیان میں پیدا ہوا ہوں لیکن مجھے اس وقت تک کھجوروں کی ان قسموں کے بارے میں آپ سے زیادہ علم نہیں ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ میرے پاس آ کر بیٹھے ، تو تمہاری زمین میرے سامنے پیش کی گئی میں نے اس کے قریبی حصے سے لے کے دور تک کے حصے کو دیکھ لیا تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر برنی ہے جو بیماری کو رخصت کر دیتی ہے ، اور اس میں بیماری نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8010
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ تَمْرَاتِكُمُ الْبَرْنِيُّ يُذْهِبُ الدَّاءَ وَلَا دَاءَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری کھجوروں میں سب سے بہتر ” برنی “ ہے جو بیماری کو ختم کر دیتی ہے ، اور اس میں بیماری نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سوید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سوید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8011
وَعَنِ الْهِرْمَاسِ قَالَ : أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي تَمْرًا فَقَالَ : " أَيُّ تَمْرٍ هَذَا ؟ " فَقَالَ : الْجُذَامَى فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْجُذَامَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ فَايِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہرماس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر کھجوریں پیش کیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سی قسم کی کھجوریں ہیں ؟ اس نے عرض کی : جذامی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! جذامی میں برکت رکھ دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔