کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوروں کا بیان
حدیث نمبر: 8015
عَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي : ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ عَلَى الرِّيقِ لَا يَضُرُّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ " . ¤ قَالَ فُلَيْحٌ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " وَإِنْ أَكَلَهَا حِينَ يُمْسِي لَمْ يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ قَالَ عُمَرُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ - : انْظُرْ يَا عَامِرُ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ وَلَا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ وَفِيهِ : لَمْ يَضُرُّهُ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ . وَفِي هَذَا : لَمْ يَضُرُّهُ شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان موجود عجوہ کھجوروں میں سے سات کھجوریں ، نہار منہ کھا لے ، تو اس دن میں ، شام ہونے تک وہ چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ فلیح نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے فرمایا : ” اگر کوئی شخص شام کے وقت انہیں کھا لے ، تو صبح ہونے تک کوئی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے عامر ! آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا حدیث بیان کر رہے ہیں انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے ، اور نہ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے جو اس سیاق کے بغیر ہے ، اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچائے گا “ جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (168/1)»
حدیث نمبر: 8016
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مِنْ تَمْرِ الْعَالِيَةِ حِينَ يُصْبِحُ ، لَمْ يَضُرُّهُ سُمٌّ ، وَلَا سِحْرٌ حَتَّى يُمْسِيَ " . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ : عَجْوَةُ الْعَالِيَةِ شِفَاءُ أَوَّلِ الْبَكْرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَمُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ اللَّخْمِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص صبح کے وقت ( مدینہ منورہ کے ) بالائی حصے کی کھجوروں میں سے سات عجوہ کھجوریں کھا لے اسے شام ہونے تک کوئی زہر یا جادو نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت مذکور ہے : ” عالیہ ( یعنی بالائی علاقے ) کی ، عجوہ کھجور ، صبح کے آغاز میں شفاء ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے دحیم اور ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی منبہ بن عثمان لخمی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8016
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (31)»