حدیث نمبر: 8003
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ : " إِذَا جَاءَ الرُّطَبُ فَهَنِّئِينِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حَسَّانُ بْنُ سِيَاهٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : جب کھجوریں آ جائیں ، تو مجھے نا دینا ( یا مجھے مبارک باد دینا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسان بن سیاہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسان بن سیاہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8004
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْرِمُوا عَمَّتَكُمِ النَّخْلَةَ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الطِّينِ الَّذِي خُلِقَ مِنْهُ آدَمُ ، وَلَيْسَ مِنَ الشَّجَرِ يُلَقَّحُ غَيْرَهَا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنی پھوپھی کھجور کے درخت کا احترام کرو کیونکہ یہ اس مٹی سے پیدا کی گئی ہے جس مٹی سے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور درختوں میں اس کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہے جس کی پیوند کاری کی جاتی ہو “ ۔
حدیث نمبر: 8005
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمُوا نِسَاءَكُمُ الْوُلَّدَ الرُّطَبَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبٌ فَالتَّمْرَ ، وَلَيْسَ مِنَ الشَّجَرَةِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَجَرَةٍ نَزَلَتْ تَحْتَهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مَسْرُورُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنی خواتین کو تازہ کھجوریں کھلاؤ ، اگر رطب نہ ہوں ، تو تمر کھلاؤ ، کیونکہ درختوں میں کوئی بھی درخت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس درخت سے زیادہ محبوب نہیں ہے جس کے نیچے سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا ٹھہری تھیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسرور بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسرور بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8006
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ بُسْرٌ وَرُطَبٌ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ وَيَتْرُكُ الْمُذَنِّبَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُعَاذِ بْنِ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھال لایا گیا ، جس میں خشک اور تر کھجوریں تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجوریں کھانا شروع کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” مذنب “ ( جس میں تازہ ہونے کے آغاز اس کی دم کی طرف سے ہوتا ہے ، اُن ) کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد معاذ بن سہل سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد معاذ بن سہل سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔