کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: کھجور کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
❮
❯
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ : " إِذَا جَاءَ الرُّطَبُ فَهَنِّئِينِي " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حَسَّانُ بْنُ سِيَاهٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : جب کھجوریں آ جائیں ، تو مجھے مبارک باد دینا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسان بن سیاہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2880)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكْرِمُوا عَمَّتَكُمِ النَّخْلَةَ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الطِّينِ الَّذِي خُلِقَ مِنْهُ آدَمُ ، وَلَيْسَ مِنَ الشَّجَرِ يُلَقَّحُ غَيْرَهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنی پھوپھی کھجور کے درخت کا احترام کرو کیونکہ یہ اس مٹی سے پیدا کی گئی ہے جس مٹی سے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور درختوں میں اس کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہے جس کی پیوند کاری کی جاتی ہو “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8004
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «أخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 2419»
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمُوا نِسَاءَكُمُ الْوُلَّدَ الرُّطَبَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبٌ فَالتَّمْرَ ، وَلَيْسَ مِنَ الشَّجَرَةِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَجَرَةٍ نَزَلَتْ تَحْتَهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مَسْرُورُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اپنی زچہ خواتین کو تازہ کھجوریں کھلاؤ ، اگر رطب نہ ہوں ، تو تمر کھلاؤ ، کیونکہ درختوں میں کوئی بھی درخت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس درخت سے زیادہ معزز نہیں ہے جس کے نیچے سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا ٹھہری تھیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسرور بن سعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 2419، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3632، 3919»
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ بُسْرٌ وَرُطَبٌ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ وَيَتْرُكُ الْمُذَنِّبَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُعَاذِ بْنِ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھال لایا گیا ، جس میں خشک اور تر کھجوریں تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجوریں کھانا شروع کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” مذنب “ ( جس میں تازہ ہونے کے آغاز اس کی دم کی طرف سے ہوتا ہے ، اُن ) کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد معاذ بن سہل سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2881) ، أخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 7576»