حدیث نمبر: 7959
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَكَلْتُ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ سَمِينٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَتَجَشَّأُ ، فَقَالَ : " اكْفُفْ عَنَّا جُشَاءَكَ أَبَا جُحَيْفَةَ فَإِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شَبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ فَمَا أَكَلَ أَبُو جُحَيْفَةَ مِلْءَ بَطْنِهِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ، كَانَ إِذَا تَغَدَّى لَا يَتَعَشَّى ، وَإِذَا تَعَشَّى لَا يَتَغَدَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ الْكَبِيرِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْكُوفِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے بہت سے گوشت کا ثرید کھایا جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں ڈکار مار رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوحجیفہ ! اپنے ڈکار ہم سے روک کے رکھو کیونکہ دنیا میں زیادہ سیر ہو کر کھانے والے قیامت کے دن زیادہ دیر بھوکے رہیں گے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو پھر سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے اگر وہ صبح کے وقت کچھ کھا لیتے تھے ، تو شام کو نہیں کھاتے تھے ، اور اگر وہ شام کو کھا لیتے تھے ، تو صبح نہیں کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی محمد بن خالد کوفی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی محمد بن خالد کوفی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7960
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[ وَ ] قَالَ : تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " اقْصُرْ مِنْ جُشَائِكَ فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشْبَعُهُمْ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مَسْعُودِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ڈکار لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنا ڈکار روک کے رکھو کیونکہ قیامت کے دن وہ لوگ سب سے زیادہ دیر تک بھوکے رہیں گے ، جو دنیا میں زیادہ سیر ہوتے رہے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مسعود بن محمد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مسعود بن محمد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7961
وَعَنِ اللَّجْلَاجِ قَالَ : مَا مَلَأْتُ بَطْنِي طَعَامًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آكُلُ حَسْبِي وَأَشْرَبُ حَسْبِي . يَعْنِي : قُوتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
لجلاج بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ہے اس کے بعد کبھی میں نے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا میں بنیادی ضرورت کا کھا لیتا ہوں ، اور بنیادی ضرورت کاپی لیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلی بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7962
وَعَنْ جَعْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَجُلًا عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیٹ والے شخص کو دیکھا تو اپنی انگلیاں اس کے پیٹ میں لگا کے فرمایا : اگر یہ اس کے علاوہ کسی اور میں ہوتا تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص نے خواب میں دیکھا ، آپ نے اسے بلوایا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب سنایا ، اس شخص کا پیٹ بڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی اس کے پیٹ پر لگائی اور فرمایا : اگر یہ اس جگہ کے علاوہ کہیں ہوتا تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوتا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو خواب میں دیکھا تھا ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابواسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو خواب میں دیکھا تھا ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابواسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7962
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى لَهُ رَجُلٌ رُؤْيَا ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَجَاءَ فَقَصَّهَا عَلَيْهِ ، وَكَانَ عَظِيمَ الْبَطْنِ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ فِي بَطْنِهِ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . ¤ رَوَاهُ [ كُلُّهُ ] الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هُوَ الَّذِي رَأَى الرُّؤْيَا لِلرَّجُلِ . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں ہے کہ : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خواب دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا بھیجا ۔ جب وہ آیا تو اس نے اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ، اور وہ شخص بڑے پیٹ والا (مؤٹا) تھا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک سے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (یا چھوتے ہوئے ) فرمایا : ” اگر یہ (گوشت/چربی) اس کے علاوہ کسی اور جگہ (مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد وغیرہ میں) ہوتا تو تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا “ ۔
اس تمام روایت کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے ، اور امام أحمد رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے مگر ان کی روایت میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس شخص کے بارے میں خواب دیکھا تھا ؛ اور تمام سندوں کے راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے ابواسرائیل جشمی کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔
اس تمام روایت کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے ، اور امام أحمد رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے مگر ان کی روایت میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس شخص کے بارے میں خواب دیکھا تھا ؛ اور تمام سندوں کے راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے ابواسرائیل جشمی کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔