کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے
حدیث نمبر: 7963
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا هَاجَرْتُ ، وَذَلِكَ قُبَيْلَ أَنْ أُسْلِمَ ، فَحَلَبَ لِي شُوَيْهَةً كَانَ يَحْلِبُهَا لِأَهْلِهِ فَشَرِبْتُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَسْلَمْتُ ، وَقَالَ عِيَالُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَبِيتُ اللَّيْلَةَ كَمَا بِتْنَا الْبَارِحَةَ جِيَاعًا . فَحَلَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً فَشَرِبْتُهَا وَرَوِيتُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَوِيتَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَوِيتُ مَا شَبِعْتُ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بَعْضَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نے ہجرت کی ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہ میرے اسلام قبول کرنے سے کچھ پہلے کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا جو آپ اپنے اہل خانہ کے لئے دوہا کرتے تھے میں نے اسے پی لیا اگلے دن صبح میں نے اسلام قبول کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے کہا: گزشتہ رات ہم نے بھوکے رہ کر گزاری ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دودھ دوہ لیا پھر میں نے پیا تو میں سیر ہو گیا نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم سیر ہو گئے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں سیر ہو گیا ہوں ، اور میں آج کے دن سے پہلے کبھی اتنا سیر اور کبھی اتنا سیراب نہیں ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (397/6)»
حدیث نمبر: 7964
وَعَنْ جَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ قَدَمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْإِسْلَامَ فَحَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ " . وَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِي وَكُنْتُ رَجُلًا عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى حَلَبَ [ لِي ] سَبْعَ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ [ أُتِيتُ ] بِصَنِيعِ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ، وَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : أَجَاعَ اللَّهُ مَنْ أَجَاعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ اللَّيْلَةَ . قَالَ : " مَهْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَكَلَ رِزْقَهُ وَرِزْقُنَا عَلَى اللَّهِ " فَأَصْبَحُوا فَغَدَوْا فَاجْتَمَعَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُخْبِرُ بِمَا أَتَى عَلَيْهِ فَقَالَ جَهْجَاهٌ : حُلِبَ لِي سَبْعُ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا وَصَنِيعُ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا . فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ فَقَالَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ " فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْرِي وَكُنْتُ رَجُلًا عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا ، فَرَوِيتُ وَشَبِعْتُ ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هَذَا ضَيْفَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ أَكَلَ فِي مِعًى مُؤْمِنٍ اللَّيْلَةَ وَأَكَلَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مِعًى كَافِرٍ . الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اپنی قوم کے کچھ افراد سمیت آئے وہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ لوگ مغرب کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے ساتھ موجود فرد کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور میرے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا میں ایک بھاری بھرکم لمبا تڑنگا شخص تھا کوئی بھی میرے لئے آگے نہیں بڑھا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے آپ نے میرے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا وہ میں نے پی لیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات بکریوں کا دودھ میرے لئے دوہ لیا تو میں نے انہیں پی لیا پھر میرے پاس ہانڈی میں پکا ہوا سالن لایا گیا تو میں نے وہ بھی کھا لیا ام ایمن نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھوکا رکھے جس نے اللہ کے رسول کو آج کی رات بھوکا رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! رک جاؤ اس نے اپنا رزق کھایا ہے ، اور ہمارا رزق اللہ کے ذمہ ہے اگلے دن صبح ہوئی ، تو وہ لوگ آئے سب لوگ اکھٹے ہوئے سیدنا جہجاہ رضی اللہ عنہ بھی اور ان کے ساتھی بھی اکھٹے ہوئے ہر شخص نے بتانا شروع کیا کہ جو اس نے کھایا تھا سیدنا جہجاہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میرے لئے سات بکریوں کا دودھ دوہ لیا گیا تھا تو وہ میں نے پی لیا اور ہنڈیا تیار کی گئی تھی وہ میں نے کھا لی پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ لے پھر مسجد میں میرے علاوہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا میں ایک بھاری بھرکم لمبا تڑنگا شخص تھا میرے لئے کوئی آگے نہیں بڑھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے آپ نے میرے لئے ایک بکری کا دودھ دوہ لیا میں اس سے سیر بھی ہو گیا اور سیراب بھی ہو گیا تو ام ایمن نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا یہ ہمارا وہی مہمان نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے آج رات مومن کی آنت میں کھانا کھایا ہے ، اور اس سے پہلے اس نے کافر کی آنت میں کھایا تھا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں یہ امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7964
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2891) اخرجه ابو يعلي فى المسند (916) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2152)»
حدیث نمبر: 7965
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةُ رِجَالٍ فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : أَبُو غَزْوَانَ قَالَ : فَحَلَبَ لَهُ سَبْعَ شِيَاهٍ فَشَرِبَ لَبَنَهَا كُلَّهُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ لَكَ يَا أَبَا غَزْوَانَ أَنْ تُسْلِمَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . فَأَسْلَمَ فَمَسَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ حَلَبَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً وَاحِدَةً فَلَمْ يُتِمَّ لَبَنَهَا . فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا غَزْوَانَ ؟ " فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَقَدْ رَوِيتُ . قَالَ : " إِنَّكَ أَمْسِ كَانَ لَكَ سَبْعَةُ أَمْعَاءٍ وَلَيْسَ لَكَ الْيَوْمَ إِلَّا وَاحِدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا ، وَالْبَزَّارُ مُخْتَصَرًا وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سات افراد حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہر شخص نے ایک شخص کو اپنے ساتھ لے لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے ساتھ لے لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : ابوغزوان ن ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے سات بکریوں کا دودھ دوہ لیا اس نے ان سب کا دودھ پی لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ابوغزوان ! کیا تم اسلام قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو اس نے عرض کی : جی ہاں اس نے اسلام قبول کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہا تو وہ اس دودھ کو مکمل نہیں پی سکا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوغزوان ! تمہیں کیا ہوا ہے اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے میں سیر ہو گیا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گزشتہ رات تم نے سات آنتوں میں کھایا تھا ، اور آج تم نے صرف ایک آنت میں کھایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام بزار نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2894)»
حدیث نمبر: 7966
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِ حَدِيثٍ قَبْلَهُ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے والی حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7966
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2068)»
حدیث نمبر: 7967
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ : " وَالْمُنَافِقُ " بَدَلَ : " الْكَافِرِ " . وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَيْلِيُّ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ وَقَدْ أَوْرَدَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں لفظ ” کافر “ کی جگہ لفظ ” منافق “ استعمال ہوا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد ایلی ہے جس کے حوالے سے ایک جماعت نے روایات نقل کی ہیں کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا لیکن ابن عدی نے اس کا تذکرہ کتاب الکامل میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7967
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (118 و 2893) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6958 و 6959)»
حدیث نمبر: 7968
وَعَنْ سُكَيْنٍ الضَّمْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ الْهَيْثَمِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ هُبَيْرَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سکین ضمری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ہیثم بن صفوان بن ہبیرہ سے نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2892)»
حدیث نمبر: 7969
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ : أَجْدَبَ النَّاسُ سَنَةً ، وَكَانَتِ الْأَعْرَابُ يَأْتُونَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ الرَّجُلَ فَيَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلِ فَيُضِيفُهُ وَيُعَشِّيهِ ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ لَيْلَةً وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامٌ يَسِيرٌ وَشَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ فَأَكَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ وَلَمْ يَدَعْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَجَاءَ بِهِ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَجَعَلَ يَأْكُلُهُ كُلَّهُ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِي هَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَأْكُلُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدَعُهُ . ثُمَّ جَاءَ بِهِ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا يَسِيرًا . فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاكَ وَجَاءَ بِهِ وَقَدْ أَسْلَمَ فَقَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِتَمَامِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ آخِرَهُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک سال لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے ، تو دیہاتی لوگ مدینہ منورہ آ جاتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو حکم دیتے تھے وہ کسی شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے مہمان بنا لیتا تھا ، اور رات کا کھانا کھلاتا تھا ایک رات ایک دیہاتی آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوڑا سا کھانا تھا ، اور تھوڑا سا دودھ تھا اس دیہاتی نے اسے کھا لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ بھی نہیں رہنے دیا پھر وہ ایک رات آپ کے ساتھ آیا یا دو راتیں آپ کے ساتھ آیا وہ ساری چیزیں کھا لیتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہا: اے اللہ ! تو اس دیہاتی کے کھانے میں برکت نہ رکھنا جو اللہ کے رسول کے کھانے کو کھا جاتا ہے ، اور آپ کو ویسے ہی چھوڑ دیتا ہے پھر ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ساتھ لے کے آئے ، تو اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یہ وہی ہے جو پہلے بھی آیا تھا اس شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (432/23) اخرجه احمد فى المسند (335/6)»
حدیث نمبر: 7970
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ : مَا أَقَلَ طَعَامَكَ ؟ ! قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى قَالَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کتنا تھوڑا کھانا کھاتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور امام ابویعلیٰ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کی مانند نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اور وہ بھی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7970
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي المسند (2068)»
حدیث نمبر: 7971
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (903)»
حدیث نمبر: 7972
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى مِنْبَرِهِ قَائِمًا بِمَكَّةَ وَهُوَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوقیس نصری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مکہ میں منبر پر کھڑے ہوئے دیکھا وہ خطبہ دے رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : بے شک مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، میں نے تمہارے نبی کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن محمد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف