کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دانتوں کا خلال کرنا
حدیث نمبر: 7951
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ " . قَالُوا : وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْمُتَخَلِّلُونَ بِالْوُضُوءِ ، وَالْمُتَخَلِّلُونَ مِنَ الطَّعَامِ . أَمَّا تَخْلِيلُ الْوُضُوءِ : فَالْمَضْمَضَةُ ، وَالِاسْتِنْشَاقُ ، وَبَيْنَ الْأَصَابِعِ . وَأَمَّا تَخْلِيلُ الطَّعَامِ : فَمِنَ الطَّعَامِ ، إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَشَدُّ عَلَى الْمَلَكَيْنِ مِنْ أَنْ يَرَيَا بَيْنَ أَسْنَانِ صَاحِبِهِمَا طَعَامًا وَهُوَ [ قَائِمٌ ] يُصَلِّي " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ طَرَفًا . وَفِي إِسْنَادِهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : خلال کرنے والوں کے کیا کہنے ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! خلال کرنے والوں سے مراد کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وضو میں خلال کرنے والے اور کھانے کے بعد خلال کرنے والے جہاں تک وضو کے خلال کا تعلق ہے ، تو اس کا تعلق کلی کرنے ناک میں پانی ڈالنے اور انگلیوں کے درمیان ( خلال کرنے سے ) ہے جہاں تک کھانے کے بعد خلال کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ کھائی ہوئی چیز کے حوالے سے ہو گا کیونکہ ( انسان کے ساتھ رہنے والے ) دونوں فرشتوں کے لئے کوئی بات اس سے زیادہ گراں نہیں ہوتی کہ وہ اپنے ساتھی فرد کے دانتوں کے درمیان کھانے کی چیز دیکھیں جبکہ وہ کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا ہو ۔ یہ پوری روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7951
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4061,4062) اخرجه احمد فى المسند (416/5)»
حدیث نمبر: 7952
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ فَضْلَ الطَّعَامِ الَّذِي يَبْقَى بَيْنَ الْأَضْرَاسِ يُوهِنُ الْأَضْرَاسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : وہ اضافی کھانا جو داڑھوں کے درمیان پھنسا رہ جاتا ہے وہ داڑھوں کو کمزور کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13065)»