کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی کھانے سے پہلے اور اس کے بعد تسمیہ اور حمد کے حوالے سے کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 7901
عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ : قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : يَا ابْنَ أَعْبُدَ [ هَلْ ] تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : تَقُولُ : بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا ، قَالَ : وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا شُكْرُهُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَذَكَرَهُ بِطُولِهِ . وَابْنُ أَعْبُدَ قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ : لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اعبد بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن اعبد ! کیا تم جانتے ہو کھانے کا حق کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے ابن ابوطالب ! اس کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! جو تو نے ہمیں رزق عطا کیا ہے اس میں ہمارے لئے برکت رکھ دے “ پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس کا شکر کیا ہے ؟ میں نے دریافت کیا : اس کا شکر کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں کھلایا اور جس نے ہمیں پلایا “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ابن اعبد کے بارے میں ابن مدینی نے یہ کہا: ہے یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7901
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1312)»
حدیث نمبر: 7902
وَعَنِ امْرَأَةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِوَطْبَةٍ فَأَخَذَهَا أَعْرَابِيٌّ بِثَلَاثِ لُقَمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ لَوَسِعَكُمْ " . ¤ وَقَالَ : " إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمُ اسْمَ اللَّهِ عَلَى طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ إِذَا ذَكَرَ : بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ” وطہ “ ( کھجور ، گھی اور پنیر سے بنا ہوا مخصوص قسم کا کھانا ) لایا گیا ، ایک دیہاتی نے اس میں سے تین تھے لیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اس نے ” بسم اللہ “ پڑھ لی ہوتی ، تو یہ کھانا تمہارے لئے گنجائش والا ہوتا ( یا تمہیں پورا ہو جاتا ) “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص کھانے پر اللہ کا نام لینا بھول جائے ، تو جب اسے یاد آئے ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : ” اس کے آغاز میں اور اس کے آخر میں اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7153)»
حدیث نمبر: 7903
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُوضَعُ طَعَامُهُ فَمَا يُرْفَعُ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَبِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " يَقُولُ بِاسْمِ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ إِذَا رُفِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَعُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بعض اوقات کسی شخص کا کھانا رکھا جاتا ہے ، اور اس کا کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کھانا رکھا جاتا ہے ، تو وہ بسم اللہ پڑھتا ہے ، اور جب اسے اٹھایا جاتا ہے ، تو وہ الحمدللہ پڑھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوارث ہے جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7903
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7904
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ شَيْطَانَ الْمُسْلِمِ يَلْقَى شَيْطَانَ الْكَافِرِ فَيُرَى شَيْطَانُ الْمُؤْمِنِ شَاحِبًا أَغْبَرَ مَهْزُولًا ، فَيَقُولُ لَهُ شَيْطَانُ الْكَافِرِ : وَيْحَكَ مَا لَكَ هَلَكْتَ ؟ فَيَقُولُ شَيْطَانُ الْمُؤْمِنِ : لَا وَاللَّهِ مَا أَصِلُ مَعَهُ إِلَى شَيْءٍ ، إِذَا طَعِمَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَإِذَا شَرِبَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ ، وَإِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ ، فَيَقُولُ الْآخَرُ : لَكِنِّي آكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَأَشْرَبُ مِنْ شَرَابِهِ وَأَنَامُ عَلَى فِرَاشِهِ . فَهَذَا سَاحٌّ وَهَذَا مَهْزُولٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمان کے ساتھ رہنے والا شیطان ، کافر کے ساتھ رہنے والے شیطان سے ملتا ہے ، تو مومن کے ساتھ رہنے والا شیطان کمزور غبار آلود اور مریل نظر آتا ہے ، تو کافر کے ساتھ رہنے والا شیطان اس سے پوچھتا ہے تمہارا ستیاناس ہو تم کیوں ہلاکت کا شکار ہو رہے ہو ؟ تو مومن کے ساتھ رہنے والا شیطان کہتا ہے اللہ کی قسم ! میں اس کے ساتھ کسی چیز تک نہیں پہنچ سکتا ہے ، جب وہ کھانا کھاتا ہے ، تو اللہ کا نام لے لیتا ہے ، جب پیتا ہے ، تو اللہ کا نام لے لیتا ہے ، جب اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے ، تو اللہ کا نام ذکر کر لیتا ہے ، تو دوسرا شیطان کہتا ہے ، لیکن میں ، تو اپنے ساتھ والے شخص کا کھانا بھی کھا لیتا ہوں ، اور اس کا مشروب بھی پی لیتا ہوں ، اور اس کے بستر پر بھی سو جاتا ہوں ، تو وہ صحت مند ہوتا ہے ، اور یہ مریل ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8782)»
حدیث نمبر: 7905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُفْتَحَنَّ عَلَيْكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ ، وَلَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا ، وَلَيَكْثُرَنَّ عَلَيْكُمُ الْخُبْزُ وَاللَّحْمُ ، حَتَّى لَا يُذْكَرَ عَلَى كَثِيرٍ مِنْهُ اسْمُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ الْحِمْصِيُّ ، وَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تمہارے لئے فارس اور روم فتح کر دیے جائیں گے ، اور تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، اور تمہارے لیے روٹی اور گوشت بکثرت ہو جائیں گے یہاں تک کہ اس میں سے زیادہ تر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر نہیں کیا جائے گا“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار حمصی ہے ، جسے محمد بن مصفی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7905
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7906
وَعَنْ سَلْمَى مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَزِيرَةً وَقَرَّبَتْهَا فَأَكَلَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَبَقِيَ مِنْهَا قَلِيلٌ ، فَمَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَهَا الْأَعْرَابِيُّ كُلَّهَا بِيَدِهِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ضَعْهَا " ثُمَّ قَالَ : " سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ مِنْ أَدْنَاهَا [ تَشْبَعْ ] " فَشَبِعَ مِنْهَا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خزیرہ تیار کیا انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ اصحاب بھی تھے اس میں سے تھوڑا سا باقی بچ گیا ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دیہاتی نے وہ سارا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اسے رکھو پھر آپ نے فرمایا : پہلے اللہ کا نام لو اور اپنے قریب والے حصے کی طرف سے کھاو تم سیر ہو جاؤ گے ، تو وہ اس کے حوالے سے سیر ہو گیا اور پھر بھی وہ ( کھانا ) بچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبرانى فى معجم الكبير (300/24)»
حدیث نمبر: 7907
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَقَالَ : " كُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ حَكَى عَقِبَهُ عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ أَحَدِ رُوَاتِهِ : أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ خَطَأٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے آگے سے کھاؤ اور اللہ کا نام ذکر کر لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ طبرانی نے اس کے بعد منجاب بن حارث کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ جو اس کے راویوں میں سے ایک ہیں کہ اس روایت میں غلطی پائی جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7907
درجۂ حدیث محدثین: رجالہ ثقات ولکنہ خطأ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2997)»
حدیث نمبر: 7908
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَرَّبَ طَعَامًا ، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَكْثَرَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا ، وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ ، قُلْنَا : كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ حِينَ أَكَلْنَا ، ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ جَنْدَلٍ ، وَحَبِيبُ بْنُ أَوْسٍ ، وَكِلَاهُمَا لَيْسَ لَهُ إِلَّا رَاوٍ وَاحِدٌ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے کھانا منگوایا میں نے ایسا کوئی کھانا نہیں دیکھا جو آغاز میں اس سے زیادہ برکت والا ہو جو ہم نے پہلے کھا لیا تھا ، اور اختتام کے حوالے سے سب سے کم برکت والا ہو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے ( آغاز میں ) کھانا کھایا تھا تو ہم نے اللہ کا نام ذکر کر دیا تھا پھر اس کے بعد ایک شخص آ کر بیٹھا اور اس نے اس میں سے کھایا اور اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی ، تو شیطان نے اس کے ساتھ کھا لیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی راشد بن جندل اور ایک راوی حبیب بن اوس ہے یہ دونوں ایک ہی راوی ہیں ، اس کی سند کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4155)»
حدیث نمبر: 7909
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فِي آخِرِهِ ، وَلْيَقْرَأْ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ النَّصِيبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کھانے کے آغاز میں اللہ کا نام ذکر کرنا بھول جائے ، تو وہ اس کے آخر میں اللہ کا نام ذکر کرے اور سورت اخلاص پڑھ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابوحمزہ نصیبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7909
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7910
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ حِينَ يَذْكُرُ : بِاسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ ، فَإِنَّهُ يَسْتَقْبِلُ طَعَامًا جَدِيدًا ، وَيَمْنَعُ الْخَبِيثَ مَا كَانَ يُصِيبُ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کھانے کے آغاز میں اللہ کا نام ذکر کرنا بھول جائے ، تو جب اسے یاد آئے ، تو اسے یہ پڑھنا چاہیے اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس کے آغاز میں اور اس کے آخر میں “ تو وہ نئے سرے سے کھانا کھانا شروع ہو جائے گا ، اور اس خبیث چیز کو روک دے گا جس نے اس سے پہلے اس کھانے میں سے وصول کیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10245)»