کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنی اولاد یا اپنے والد سے لاتعلقی کا اظہار کرے
حدیث نمبر: 7862
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَضَحَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِمَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنی اولاد کی نفی کر دے تاکہ اسے دنیا میں رسوائی کا شکار کرے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کی موجودگی میں اسے رسوا کرے گا قصاص کا بدلہ قصاص ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور امام ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ اور امام ہیں ۔
حدیث نمبر: 7863
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ " قِيلَ : مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مُتَبَرِّئٌ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا ، وَمُتَبَرِّئٌ مِنْ وَلَدِهِ ، وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : " وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " . ¤ وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَالِحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : “” “” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا ، اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا ، اور ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے والدین سے لاتعلقی کا اظہار کر کے ان سے منہ موڑنے والا اپنی اولاد سے لاتعلقی کا اظہار کرنے والا اور وہ شخص جس پر کسی قوم نے انعام کیا ہو اور وہ ان کی نعمت کا انکار کرے اور ان سے لاتعلقی کا اظہار کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہو گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہو گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے امام أحمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صالح ہے ۔