حدیث نمبر: 7864
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مَنْ ظَاهِرِهَا " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا ، وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کسے ملیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو جو نرمی سے کلام کرے کھانا کھلائے ، اور اللہ تعالیٰ کے لئے قیام کی حالت میں رات گزار دے جبکہ لوگ سو رہے ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7865
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي ، وَقَرَّتْ عَيْنِي ، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ . فَقَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ " . قَالَ : قُلْتُ : أَنْبِئْنِي بِأَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ . قَالَ : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ ، وَصِلِ الْأَرْحَامَ ، وَصَلِّ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبِي مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں ، تو میرا نفس خوش ہو جاتا ہے میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں آپ مجھے ہر چیز کے بارے بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے کہ جب میں اسے اختیار کروں ، تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ صلہ رحمی کرو رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں ، اس وقت نماز ادا کرو ، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومیمونہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابومیمونہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7866
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ صُهَيْبًا كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى ، وَيَقُولُ : إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ ؟ وَتَقُولُ : إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ ، وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ . فَقَالَ صُهَيْبٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي النَّسَبِ ، فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَوْصِلِ ، وَلَكِنِّي سُبِيتُ غُلَامًا صَغِيرًا قَدْ عَقَلْتُ أَهْلِي وَقَوْمِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي الطَّعَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " أَطْعِمِ الطَّعَامَ وَرُدَّ السَّلَامَ " . فَذَلِكَ الَّذِي يَحْمِلُنِي عَلَى أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حمزہ بن صہیب بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ابویحیی کنیت اختیار کرتے تھے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کا تعلق عربوں سے ہے ، اور وہ بہت زیادہ کھانا کھلایا کرتے تھے ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب ! کیا وجہ ہے کہ تم ابویحیی کنیت اختیار کرتے ہو حالانکہ تمہاری کوئی اولاد نہیں ہے ، اور تم یہ کہتے ہو کہ تمہارا تعلق عربوں سے ہے ، اور تم بہت زیادہ کھانا بھی کھلاتے ہو یہ ، تو مال میں اسراف کے مترادف ہے ، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ابویحیی رکھی تھی جہاں تک نسب کے بارے میں آپ کے قول کا تعلق ہے ، تو میرا تعلق نمر بن قاصد سے ہے جو اہل موصل سے ہیں لیکن مجھے کمسنی میں غلام بنا لیا گیا تھا ، لیکن مجھے اس وقت بھی مجھے اپنے اہل خانہ اور اپنی قوم کی سمجھ بوجھ تھی جہاں تک کھانے سے متعلق آپ کے قول کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کھانا کھلاؤ اور سلام کا جواب دو “ ۔ تو یہ چیز مجھے اس بات کی طرف ترغیب دیتی ہے کہ میں کھانا کھلاؤں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7867
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " أَطْعِمِ الطَّعَامَ ، وَأَفْشِ السَّلَامَ ، وَأَطِبِ الْكَلَامَ ، وَصَلِّ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں تعلیم دیجئے جو مجھے جنت داخل کروا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھانا کھلاؤ سلام پھیلاؤ پاکیزہ کلام کرو رات کے وقت نماز ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7868
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْحُسَيْنِ طَعَامًا فِي بَعْضِ أَرَضِيهِ فَطَعِمَ ثُمَّ رَفَعَ الطَّعَامَ فَجَاءَ مَوْلًى لَهُ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ لَا أُرِيدُهُ . قَالَ : لِمَ ؟ قَالَ : أَكَلْنَا قُبَيْلُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحُسَيْنُ : إِنَّ أَبَاهُ كَانَ سَيِّدَ قُرَيْشٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَأَطِيبُوا الْكَلَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ایک زوجہ محترمہ نے ان کی زمین میں کسی جگہ کھانا تیار کیا انہوں نے کھانا کھا لیا پھر انہوں نے کھانا اٹھا لیا اسی دوران ان کا ایک غلام آ گیا تو امام حسین نے کھانا منگوایا تو اس غلام نے کہا: اے ابوعبداللہ ! میں کھانا نہیں کھانا چاہتا امام حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں اس نے بتایا تھوڑی دیر پہلے ہم نے سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں کھانا کھایا ہے ، تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے والد قریش کے سردار تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے بنوعبدالمطلب کھانا کھلاؤ اور پاکیزہ کلام کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7869
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَطِيبُوا الْكَلَامَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھانا کھلاؤ اور پاکیزہ کلام کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں قاسم بن محمد نامی راوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں قاسم بن محمد نامی راوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7870
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُمَكِّنُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِطْعَامُ الطَّعَامِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَطِيبُوا الْكَلَامَ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَبَّادِ[ يُّ ] وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنوعبدالمطلب ! کھانا کھلانا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا ( یا جنت میں جگہ دلوا دے گا ) تو تم کھانا کھلاؤ اور پاکیزہ کلام کرو “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد عبادی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7871
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَأَفْشُوا السَّلَامَ ، تُوَرَّثُوا الْجِنَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن حارث ہمارے پاس سے گزرتے تھے ، تو یہ کہا: کرتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے ” کھانا کھلاؤ اور سلام پھیلاؤ تم جنت کے وارث بن جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7872
وَعَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ لِي الْجَنَّةَ قَالَ : " يُوجِبُ الْجَنَّةَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ " . ¤ [ وَفِي رِوَايَةٍ ] : " وَحُسْنُ الْكَلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي الصَّلَاةِ . ¤
محمد محی الدین
مقدام بن شریح نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسی چیز کے بارے بتائیے جو میرے لئے جنت کو واجب کروا دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا جنت کو واجب کروا دیتے ہیں ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اچھا کلام کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس باب سے متعلق کچھ احادیث نماز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس باب سے متعلق کچھ احادیث نماز سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 7873
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : ذَهَبَ الْمُطْعِمُونَ وَهُمُ الْمُسْتَطْعَمُونَ وَذَهَبَ الْمُذَكِّرُونَ وَبَقِيَ الْمُنَسِّئُونَ . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ عِمْرَانُ حَيًّا الْيَوْمَ لَكَانَ أَقْوَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کھانا کھلانے والے رخصت ہو گئے ہیں یہ وہ لوگ تھے جن سے کھانا طلب کیا جاتا تھا ، اور نصیحت کرنے والے رخصت ہو گئے ہیں اور بھلانے والے باقی رہ گئے ہیں ۔ حسن بصری فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر اب سیدنا عمران رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے ، تو ان کا قول ( صورت حال کے ) زیادہ موافق ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔