حدیث نمبر: 7740
عَنْ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : الْأَعْشَى وَاسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا : مُعَاذَةُ خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ ، فَهَرَبَتِ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ ، نَاشِزًا عَلَيْهِ فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قُمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْصَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحِرْمَازِ ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ فَلَمَّا قَدِمَ لَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ ، وَأَخْبَرَتْ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ عِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا لِي ، قَالَ : لَيْسَتْ عِنْدِي وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ ، قَالَ : وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاذَ بِهِ ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ . ¤ كَالذِّئْبَةِ الْعَلْسَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ ¤ خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ . ¤ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ ¤ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ . ¤ وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ وَمُؤْتَشَبْ ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ عِنْدَ ذَلِكَ ] : " وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ " . ¤ فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ [ بِهِ ] ، وَإِنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ فَكَتَبَ لَهُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَى مُطَرِّفٍ امْرَأَةُ هَذَا مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا : يَا مُعَاذَةُ هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكِ فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يُعَاقِبَنِي بِمَا صَنَعْتُ فَأَخَذَ لَهَا ذَلِكَ عَلَيْهِ وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ . ¤ وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ تَنَاجَوْا بِهَا بَعْدِي ¤ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
نضلہ بن طریف بیان کرتے ہیں : ان میں سے ایک شخص کا نام اعشی تھا اس کا نام عبداللہ بن اعور تھا اس کی ایک بیوی تھی جس کا نام معاذہ تھا وہ شخص رجب کے مہینے میں حجر سے اپنے اہل خانہ کے لئے سامان لانے کے لئے نکلا اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی بھاگ گئی وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے بھاگ گئی تھی اس نے ان لوگوں میں سے ایک شخص کی پناہ لے لی جس کا نام مطرف بن بہصل بن کعب بن قمیشع بن دلف بن اہصم بن عبدالله بن حرماز تھا تو اس شخص نے اسے اپنی پشت کے پیچھے کر لیا جب اعشی واپس آیا اور اس نے اپنی عورت کو اس گھر میں نہیں پایا اور اسے یہ بات پتہ چلی کہ اس عورت نے اس کی نافرمانی کی ہے ، اور مطرف بن بہصل کی پناہ لی ہے ، تو وہ شخص مطرف کے پاس آیا اور بولا: میری بیوی معاذہ تمہارے پاس ہے تم اسے میرے حوالے کر دو اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے اگر میرے پاس ہوتی بھی ، تو میں نے اسے تمہارے حوالے نہیں کرنا تھا راوی کہتے ہیں : مطرف اس کے مقابلے میں زیادہ صاحب حیثیت تھا وہ شخص وہاں سے نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی پناہ مانگی اور یہ اشعار پڑھے : ” اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں آپ کے سامنے ایک زیادتی ( یا اپنی بیوی کی ) شکایت کرنا چاہتا ہوں ، جو اپنی کچھار کے سائے میں موجود تاریک رات جیسی ، بھیڑیے کی مادہ کی طرح ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی ، اور اس نے مجھے اس صورتحال کا شکار کر دیا جس طرح ” عیص “ نامی درخت ہوتا ہے جس کے پتے اتر جاتے ہیں ، ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ( یعنی یہ الفاظ دہرائے : ) ” ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے ، غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس نے بیوی کے طرز عمل کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ ان میں سے ایک شخص کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لئے مطرف کے نام ایک خط لکھا کہ اس شخص کی بیوی معاذہ ہے تم اس عورت کو اس کے حوالے کر دو اس شخص کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا وہ اس شخص کے سامنے پڑھا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا: اے معاذہ ! یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب تمہارے بارے میں آ گیا ہے اب میں تمہیں اس شخص کے حوالے کر دوں گا اس عورت نے کہا: پھر تم اس شخص سے عہد اور میثاق لینا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ لینا کہ وہ میرے اس عمل پر مجھے کوئی سزا نہیں دے گا اس شخص نے اس عورت کے لئے اس بارے میں عہد لیا اور پھر مطرف نے اس عورت کو اس شخص کے حوالے کر دیا تو اس شخص نے یہ اشعار پڑھے : ” آپ کی زندگی کی قسم ہے معاذہ کے ساتھ میری محبت ایسی نہیں ہے ، کہ کوئی شخص یا زمانے کا گزرنا ، یا جو برائی اس نے کی ہے وہ اس ( محبت ) کو ختم کر دے ، جبکہ بھٹکے ہوئے لوگوں نے ، میرے بعد اس کو سرگوشی میں بات کر کے بہکا دیا تھا “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7741
وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ : ¤ يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبِ . ¤ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ¤ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ . ¤ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ . ¤ قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [ عِنْدَ ذَلِكَ ] : " وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ” اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی “ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا ، ( یعنی یہ الفاظ ، دہرائے : ) ” ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے ، غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں “ ۔
یہ روایت أحمد بن عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت أحمد بن عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔