کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص کسی غلام میں ایک حصے کو آزاد کر دے
حدیث نمبر: 7283
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كَانَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ : طَهْمَانُ أَوْ ذَكْوَانُ فَأَعْتَقَ جَدُّهُ نَصِيبَهُ ، فَجَاءَ الْعَبْدُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعْتِقُ فِي عُنُقِكَ وَتَرِقُّ فِي عُنُقِكَ " . قَالَ : وَكَانَ يَخْدِمُ سَيِّدَهُ حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ : عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ - فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَقَطَ مِنْ نُسْخَتِي - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن امیہ ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا جس کا نام طہمان ، یا شاید ذکوان تھا ، ان کے دادا نے اس میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ، وہ غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی گردن میں آزاد ہو ، تم اپنی گردن میں غلام ہو ( یعنی کچھ آزاد ہو ، اور کچھ غلام ہو ) راوی کہتے ہیں : تو وہ غلام مرتے دم تک اپنے آقا کی خدمت کرتا رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : اسماعیل بن امیہ کے حوالے سے ، ان کے والد کے حوالے سے ، ان کے دادا سے منقول ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت عبداللہ بن أحمد کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، ان کی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، تو اس بات کا احتمال موجود ہے کہ میرے نسخے میں یہ لفظ نہ آیا ہو ، کہ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا سے نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7283
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5517) اخرجه احمد فى المسند (412/3)»
حدیث نمبر: 7284
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ الْمُزْنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُعْتِقُ الرَّجُلُ مِنْ عَبْدِهِ مَا شَاءَ إِنْ شَاءَ ثُلُثًا ، وَإِنْ شَاءَ رُبْعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ : " إِنْ شَاءَ خُمْسًا لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ ضَغْطَةٌ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ - بِالْفَاءِ - وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سنان مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اپنے غلام میں سے جتنا چاہے ، اس کو آزاد کر دے ، اگر چاہے ، تو ایک تہائی حصے کو کر دے ، اگر چاہے ، تو چوتھائی حصے کو کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : اگر وہ چاہے ، تو پانچویں حصے کو آزاد کر دے ، اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی قہر ( یا زبردستی ) نہیں ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن فضاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7284
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7285
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ عَشَرَةٍ فَأَعْتَقَ تِسْعَةٌ مِنْهُمْ وَأَبَى الْعَاشِرُ أَنْ يُعْتِقَ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمَائِي . قَالَ : " سَمَاؤُكَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک غلام ، دس آدمیوں کی ملکیت تھا ، ان میں سے نو افراد نے ( اپنے ، اپنے حصے کو ) آزاد کر دیا ، اور دسویں فرد نے ، اپنے حصے کو آزاد کرنے سے انکار کر دیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرا رتبہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں تمہارا رتبہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7285
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7286
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ عَشَرَةٍ فَأَعْتَقُوهُ إِلَّا وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَشْفِعُ بِهِ عَلَى الرَّجُلِ ، وَكَلَّمَهُ فِيهِ فَوَهَبَ الرَّجُلُ نَصِيبَهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ يَقُولُ : أَنَا مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَكَانَ اسْمُهُ رَافِعًا أَبَا الْبَهِيِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عمر بن سعید بیان کرتے ہیں : ایک غلام دس آدمیوں کی ملکیت تھا ، انہوں نے اسے آزاد کر دیا ، ان میں سے ایک نے اس کو آزاد نہیں کیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تاکہ اس شخص کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کروائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کے بارے میں اس شخص سے بات کی ، تو اس شخص نے اپنے حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آزاد کر دیا ، تو وہ غلام یہ کہا: کرتا تھا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آزاد کردہ غلام ہوں ، اس کا نام ” رافع ابوبہی “ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، محمد بن عمر نامی اس راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7286
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7287
وَعَنْ سَمُرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ حُرٌّ وَلَيْسَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَرِيكٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِمِثْلِ حَدِيثٍ قَبْلَهُ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے حصے کو آزاد کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ غلام آزاد شمار ہو گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شراکت دار نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اس سے پہلے والی حدیث کی مانند نقل کی ہے ، اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7288
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : حَفِظْنَا عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ ضَمِنَ لَهُمْ بَقِيَّتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : ہم نے تیس صحابہ کرام کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات یاد رکھی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی غلام میں ، اپنے حصے کو آزاد کر دے ، تو وہ اس کی بقیہ قیمت کا ( دوسرے مالکان ) کے لئے ضامن ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7288
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7289
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا فِي مَمْلُوكٍ ضَمِنَ لَهُمْ نَصِيبَهَمْ مِنْ مَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا ضَعِيفَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام میں ( اپنے ) حصے کو آزاد کرتا ہے ، تو وہ ( دیگر شراکت داروں ) کے لئے ، ان کے حصے کے حوالے سے ، اپنے مال میں سے ضامن ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ابراہیم بن اسماعیل بن یحیی کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7289
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1395)»
حدیث نمبر: 7290
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا [ لَهُ ] مِنْ رَقِيقٍ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ بَقِيَّتَهُ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ فِي ثَمَنِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام میں ، اپنے حصے کو آزاد کر دے ، تو اس پر یہ لازم ہے کہ اس کے بقیہ حصے کو بھی آزاد کرے ، اگر اس شخص کے پاس مال نہیں ہوتا ، تو غلام اپنی قیمت کے حوالے سے مزدوری کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق مروزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7290
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7291
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ بَعْضُهُمْ قُوِّمَ عَلَيْهِ بِأَغْلَى الْقِيمَةِ فَيَغْرَمُ ثَمَنَهُ وَيُعْتَقُ الْعَبْدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی غلام مختلف لوگوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور ان میں سے کوئی ایک اس کو آزاد کر دے ، تو غلام کی سب سے زیادہ قیمت لگائی جائے گی ، پھر وہ اس کی قیمت کا تاوان ( جرمانہ ) ادا کرے گا اور غلام کو آزاد کر دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7291
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7292
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ ضَامِنٌ بَقِيَّتَهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی غلام میں سے ، ایک حصے کو آزاد کر دے ، تو وہ اس کے بقیہ حصے کا ضامن ہو گا“ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 7293
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تو اس پر یہ لازم ہو گا کہ اس کو مکمل آزاد کروائے ، اگر اس شخص کے پاس مال موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7293
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7294
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَجُلَانِ مِنْ جُهَيْنَةَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ فَأَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَمَّنَهُ إِيَّاهُ ، وَكَانَتْ لَهُ غُنَيْمَةٌ قَرِيبٌ مِنْ مِائَةِ شَاةٍ فَبَاعَهَا فَأَعْطَى صَاحِبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں کے درمیان ایک غلام مشترکہ ملکیت تھا ، ان دونوں میں سے ایک شخص نے اسے آزاد کر دیا ، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے ضمان کا پابند کیا ، اس شخص کے پاس کچھ بکریاں تھیں ، جو ایک سو کے قریب تھیں ، اس نے انہیں فروخت کیا اور اپنے ساتھی کو اس کو اس کی قیمت دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7294
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10364)»