کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نیک لوگوں کو آزاد کرنا
حدیث نمبر: 7248
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتَهُ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ أَعْتِقْ سَعْدًا " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ، ان کی خدمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی آپ نے فرمایا : ابوبکر ! سعد کو آزاد کر دو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی خدمت گار نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سعد کو آزاد کر دو ! تمہارے پاس اور لوگ آ جائیں گے ، تم سعد کو آزاد کر دو تمہارے پاس اور لوگ ( یعنی غلام ) آ جائیں گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7248
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1573) اخرجه احمد المسند (1717)»
حدیث نمبر: 7249
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ : يَسَارٌ فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَأَعْتَقَهُ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الدِّيَاتِ فِي الْمُحَارِبِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام تھا ، جس کا نام یسار تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سے نماز ادا کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ،
یہ روایت ” محاربین “ سے متعلق باب میں ، دیت سے متعلق باب میں ذکر ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن ابراہیم تیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7249
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6223)»
حدیث نمبر: 7250
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ الْمُتَوَضَّأَ فَأَصَابَ لُقْمَةً - أَوْ قَالَ : كِسْرَةً - فِي مَجْرَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى فَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى غُلَامِهِ ، فَقَالَ : يَا غُلَامُ ذَكِّرْنِي بِهَا إِذَا تَوَضَّأْتُ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ لِلْغُلَامِ : يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي اللُّقْمَةَ - أَوْ قَالَ : الْكِسْرَةَ - . قَالَ : يَا مَوْلَايَ أَكَلْتُهَا ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ ! فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ : يَا مَوْلَايَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَعْتَقْتَنِي ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذْكُرُ عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ لُقْمَةً أَوْ كِسْرَةً مِنْ مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ، ثُمَّ أَكَلَهَا لَمْ تَسْتَقِرَّ فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ " . فَمَا كُنْتُ لِأَسْتَخْدِمَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عِيسَى بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ وضو کی جگہ پر داخل ہوئے ، وہاں انہیں ایک لقمہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹکڑا ملا ، جو پاخانے یا پیشاب کے بہنے کی جگہ پر پڑا ہوا تھا ، انہوں نے اسے لیا اس سے گندگی کو صاف کیا ، اسے اچھی طرح سے دھویا ، پھر وہ اپنے غلام کو دیا اور فرمایا : اسے غلام ! جب میں وضو کر لوں گا ، تو یہ مجھے یاد کروا دینا ، جب آپ نے وضو کر لیا ، تو آپ نے غلام سے کہا: اے غلام ! وہ لقمہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ ٹکڑا مجھے پکڑاؤ ! تو اس نے عرض کی : اے میرے آقا ! میں نے اسے کھا لیا ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ ! تم اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہو ، غلام نے ان سے کہا: اے میرے آقا ! آپ نے مجھے کسی وجہ سے آزاد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اپنے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو شخص کوئی لقمہ ، یا ٹکڑا ، پاخانہ یا پیشاب کی جگہ پر پڑا ہوا پائے ، پھر اسے لے کر اس سے گندگی کو صاف کر کے اسے اچھی طرح سے دھو لے ، پھر اس کو کھا لے ، تو وہ لقمہ اس کے پیٹ میں ٹھہرنے سے پہلے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ ( امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں کسی جنتی شخص سے خدمت نہیں لوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عیسیٰ بن سالم کے حوالے سے وہب بن عبدالرحمن قریشی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7250
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6750)»