عَنْ عَدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ ، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَرَكِبَ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ بِتَبُوكَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَأْنِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ ؟ فَقَالَ : " يَعْقِلُهَا ، وَلَا يَرِثُهَا " . ¤ قَالَ عَدِيٌّ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَدْعَاءَ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْأَيْدِيَ ثَلَاثَةٌ : يَدُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى ، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَاوِيًا لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن کی دو بیویاں تھیں ، اُن میں سے ایک نے پتھر مار کر دوسری کو قتل کر دیا ، وہ اس بارے میں سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبوک میں موجود تھے ، انہوں نے مقتول عورت کے معاملے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کی دیت تو ادا کریں گے لیکن وہ اس کے وراث نہیں بنیں گے ۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ سرخ جدعاء اونٹنی پر موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے لوگو ! ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اوپر والا ہے ، دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے ، اور مانگنے والے کا ہاتھ نیچے والا ہے ، تو تم مانگنے سے بچو ! خواہ لکڑیوں کا گٹھا اکٹھا کر کے ( مانگنے سے بچنے کی کوشش کرو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ بْنِ أَبِي كَبِيرٍ قَالَ : كُنْتُ أُدَاعِبُ امْرَأَتِي فَانْرَمَى يَدِي فَمَاتَتْ وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَ امْرَأَتَيِ الَّتِي أَصَبْتُهَا خَطَأً فَقَالَ : " لَا تَرِثُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعُمَرُ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن شیبہ بن ابوکبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنی بیوی کے ساتھ خوش طبعی کر رہا تھا ، میرا ہاتھ لگا تو وہ مر گئی ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ تبوک کی بات ہے ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنی بیوی کی صورت حال کے بارے میں بتایا جسے میں نے خطا کے طور پر قتل کر دیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کے وارث نہیں بنو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور سیدنا عمر بن شیبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابوحاتم نے یہ کہا: ہے : یہ مجہول ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7174
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7204)»