مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابُ مِيرَاثِ الْقَاتِلِ . باب: قاتل کی میراث
عَنْ عَدِيٍّ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ ، فَرَمَى إِحْدَاهُمَا بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَرَكِبَ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ بِتَبُوكَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَأْنِ الْمَرْأَةِ الْمَقْتُولَةِ ؟ فَقَالَ : " يَعْقِلُهَا ، وَلَا يَرِثُهَا " . ¤ قَالَ عَدِيٌّ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَدْعَاءَ فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْأَيْدِيَ ثَلَاثَةٌ : يَدُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى ، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَاوِيًا لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن کی دو بیویاں تھیں ، اُن میں سے ایک نے پتھر مار کر دوسری کو قتل کر دیا ، وہ اس بارے میں سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبوک میں موجود تھے ، انہوں نے مقتول عورت کے معاملے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کی دیت تو ادا کریں گے لیکن وہ اس کے وراث نہیں بنیں گے ۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گویا اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ سرخ جدعاء اونٹنی پر موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے لوگو ! ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اوپر والا ہے ، دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے ، اور مانگنے والے کا ہاتھ نیچے والا ہے ، تو تم مانگنے سے بچو ! خواہ لکڑیوں کا گٹھا اکٹھا کر کے ( مانگنے سے بچنے کی کوشش کرو ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔