کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نومولود بچہ کب وارث بنتا ہے ؟
حدیث نمبر: 7143
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَجَابِرٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا وَاسْتِهْلَالُهُ أَنْ يَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ أَوْ يَبْكِيَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ وَثَّقَهُ أَبُو مُسْهِرٍ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَا أُحَدِّثُ عَنْهُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پیدا ہونے کے فوراً بعد مر جانے والا ) بچہ اس وقت تک وارث نہیں بنتا ، جب تک وہ ( پیدائش کے وقت ) چیختا نہیں ہے اور چیخنے سے مراد یہ ہے کہ وہ چیخ مار دے ، یا چھینک مار دے ، یا روئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن ولید خلال ہے ، جسے مسہر اور مروان بن محمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد کہتے ہیں : میں اس کے حوالے سے روایت نقل نہیں کرتا ہوں ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (20/20)»
حدیث نمبر: 7144
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ فِي حَيَاتِهِ ، ثُمَّ مَاتَ فَوُلِدَ لَهُ وُلَدٌ بَعْدَ مَا مَاتَ فَلَقِيَ عَمْرٌو أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ : مَا نَمْتُ اللَّيْلَةَ مِنْ أَجْلِ ابْنِ سَعْدٍ هَذَا الْمَوْلُودِ ، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ شَيْئًا . فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : وَأَنَا وَاللَّهِ مَا نِمْتُ اللَّيْلَةَ - أَوْ كَمَا قَالَ - مِنْ أَجْلِهِ فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ فَكَلِّمْهُ ( فِي أَخِيهِ ) ، فَأَتَيَاهُ فَكَلَمَّاهُ . فَقَالَ قَيْسٌ : أَمَّا شَيْءٌ أَمْضَاهُ سَعْدٌ فَلَا أَرُدُّهُ أَبَدًا ، وَلَكِنْ أُشْهِدُكُمَا أَنَّ نَصِيبِي لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ رِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهَا مُرْسَلَةٌ لَمْ يَسْمَعْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال ، اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیا ، پھر ان کا انتقال ہو گیا ، اس کے بعد ان کا ایک اور بیٹا پیدا ہوا ، وہ ان کے انتقال کے بعد پیدا ہوا تھا ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے کہا: سعد کے نو مولو بیٹے کی وجہ سے میں گزشتہ رات سو نہیں سکا ، کیونکہ انہوں نے اس کے لئے کچھ نہیں چھوڑا ہے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! گزشتہ رات میں بھی نہیں سو سکا اور اس کی وجہ بھی یہی تھی ، یا انہوں نے اس کی مانند کوئی اور کلمات کہے ( پھر انہوں نے فرمایا : ) تم میرے ساتھ قیس بن سعد کے پاس چلو اور اس کے بھائی کے بارے میں اس کے ساتھ بات چیت کرو ! یہ دونوں صاحبان ان کے پاس آئے ، اور ان کے ساتھ بات چیت کی ، توقیس بن سعد نے کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو کیا ہے ، میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا ، البتہ میں آپ دونوں حضرات کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میر مخصوص حصہ اس ( بچے ) کو ملتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے اور ان تمام کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ
یہ روایت ” مرسل“ ہے ، ان راویوں میں سے کسی نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (347/18)»
حدیث نمبر: 7145
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتِهْلَالُ الصَّبِيِّ الْعُطَاسُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچے کے چیخ کر رونے میں ، چھینکنا بھی شامل ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1390)»