حدیث نمبر: 7078
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَرْكُ الْوَصِيَّةِ عَارٌ فِي الدُّنْيَا ، وَنَارٌ وَشَنَارٌ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وصیت کو ترک کرنا ، دنیا میں شرمندگی اور آخرت میں آگ اور شرمندگی والے عیب کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7079
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ ، وَعِنْدَهُ مَا يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کسی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دو سیاہ راتیں گزار دے ، جبکہ اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو ، جس کے بارے میں وہ وصیت کر سکتا ہو ، مگر یہ کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری صورت میں ہونی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7080
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فُلَانٌ . قَالَ : " أَلَيْسَ كَانَ مَعَنَا آنِفًا ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ كَأَنَّهَا إِخْذَةٌ عَلَى غَضَبٍ . الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ وَصِيَّتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ ہمارے پاس نہیں تھا ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ یہ غضب والی گرفت محسوس ہوتی ہے ، وہ شخص محروم ہے ، جو وصیت کرنے سے محروم رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” وہ شخص محروم ہے ، جو وصیت سے محروم رہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔