حدیث نمبر: 7068
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ : " أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ ، وَأَنْ يَفْدُوا غَائِبَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ایک تحریر لکھوائی تھی کہ وہ ان کی دیت ادا کریں گے اور ان کے غیر موجود شخص کا مناسب طریقے سے فدیہ دیں گے اور مسلمانوں کے درمیان بہتری پیدا کریں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 7069
وَعَنْ مُخَوَّلٍ الْبَهْذِيِّ قَالَ : رَمَيْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِيهَا ظَبْيٌ ، فَأَفْلَتَ فَأَخَذَهُ رَجُلٌ فَجَاءَ وَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ أَحَدُنَا صَارَ فِي يَدِهِ دُونَ صَاحِبِهِ ، فَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مخول بہدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں لگائی ہوئی تھیں ، ان میں ایک ہرن پھنس گیا ، پھر وہ چھوٹ گیا ، ایک شخص نے اسے پکڑ لیا وہ شخص اور میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کے لیے اس کو چھوڑ نہیں رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7070
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَلِّبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ لِلْعَبَّاسِ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَكَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ . فَلَمَّا وَصَلَ الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ [ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ ] فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِ الْمِيزَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ [ ثُمَّ جَاءَ ] فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ : وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَّا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ هِشَامَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب ، رضی اللہ عنہ جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ایک پرنالہ تھا ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ( دور خلافت میں اُن کے ) راستے میں آتا تھا ، ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن مخصوص لباس پہنا ، اسی دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لئے دو پرندے ذبح کیے گئے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پرنالے کے پاس پہنچے ، تو اس پرنالے میں سے دونوں پرندوں کا خون پانی کے ساتھ بہتا ہوا آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لگ گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو اکھاڑ دینے کا حکم دیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس گئے ، انہوں نے کپڑے اتارے ، دوسر الباس پہنا پھر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ( نماز کے بعد ) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور بولے : اللہ کی قسم ! یہ پرنالہ اس جگہ پر لگا ہوا تھا ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگایا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ میری پشت پر سوار ہو کر اُس پرنالے کو اسی جگہ رکھیں ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لگایا تھا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہشام بن سعد نامی راوی نے سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ہشام بن سعد نامی راوی نے سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7071
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُحَرِّكْهُ فَلَا أُحَرِّكُهُ . فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ . فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَّسَ رَأْسَهُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ فَضَرَبْتُ [ يَدِي ] بَيْنَ كَتِفَيِ الْعَبَّاسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ إِلَى عَلِيٍّ . قَالَ : فَسَلَّمَهُ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا گیا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کچھ چیزوں کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں چھوڑی تھیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ چیز جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ میں چھوڑا ہے ، اور اسے آپ نے کوئی حرکت نہیں دی تھی ، تو میں بھی اسے کوئی حرکت نہیں دوں گا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو یہ دونوں صاحبان اپنا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے بھی یہ کہا: کہ جس چیز کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں دی تھی ، تو میں بھی اسے حرکت نہیں دوں گا ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، تو ان دونوں نے اپنا مقدمہ ان کے سامنے پیش کیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خاموش رہے ۔ انہوں نے اپنا سر جھکا لیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ اس چیز کو اپنے قبضے میں لے لیں گے ، تو میں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا اور میں نے یہ کہا: اے ابا جان ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ یہ چیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے وہ چیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7072
وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ فَعَدَّ سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا . فَقَالَ عُمَرُ : مَهْ يَا عَبَّاسُ قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ ، ابْنُ أَخِي وَلِي شَطْرُ الْمَالِ . وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ ، تَقُولُ : ابْنَتُهُ تَحْتِي وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ . وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَدْ رَأَيْنَا مَا يَصْنَعُ فِيهِ فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ . ¤ وَقَالَ مُحَمَّدٌ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ ، وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ " . ¤ وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ " . وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُمَانِي لَتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا قَالَ : فَخَلَوْا ، ثُمَّ جَاءَا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قریش میں سے ، بنوتیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے یہ بات بیان کی ہے : فلاں نے اور فلاں نے اور فلاں نے یہاں تک کہ انہوں نے چھ یا سات افراد کو شمار کروایا ، جن سب کا تعلق قریش سے تھا ، اور ان میں ایک سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ انہوں نے مجھے یہ روایت بیان کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے ، ان دونوں کی آواز بلند ہو رہی تھی ( یعنی آپس میں تکرار چل رہی تھی ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابا جان ! آپ ٹھہر جائیں مجھے پتہ ہے آپ کیا کہیں گے کہ میرے بھتیجے کا نصف مال مجھے ملنا چاہیے ، اور اے علی مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ کیا کہیں گے ؟ آپ کہیں گے : ان کی صاحبزادی میری بیوی ہے ، تو اسے نصف مال ملنا چاہیے ، یہ جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں تھا ، ہم نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کس طرح استعمال کیا ؟ آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے نگران بنے ، تو انہوں نے اس سب کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق استعمال کیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد میں اس کا نگران بنا ، تو میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں اس بات کی بھرپور کوشش کروں گا کہ اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق کام کروں ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ، اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اُٹھا کر یہ کہا: ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” نبی کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی ، اُن کی وراثت مسلمانوں کے غریب لوگوں اور مساکین کو دی جاتی ہے “ ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نبی کا اُس وقت تک انتقال نہیں ہوتا ، جب تک اُس کی امت کا کوئی فرد اس کی امامت نہیں کرتا“ ( اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) یہ وہ چیزیں تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں تھیں ، ہم نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے استعمال کرتے تھے ؟ اگر آپ دونوں یہ چاہیں ، تو یہ دونوں میرے حوالے کر دیں ، یا یہ کہ آپ اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقے کے مطابق عمل کرتے ہیں ، تو پھر میں یہ آپ کے سپرد کر دیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : یہ حضرات اس وقت اُٹھ کے چلے گئے ، پھر یہ دونوں حضرات واپس آئے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہ علی کے حوالے کر دیں ، کیونکہ میں اپنی خوشی سے یہ اس کو دے رہا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7073
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ : لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ : الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ” اگر تم جابرس سے لے کر جابلق تک کا جائزہ لو ، تو تمہیں میرے اور میرے بھائی ( یعنی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ) کے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا ، جس کا نانا ” نبی “ ہو اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی خلافت ) پر اکھٹے ہو جاؤ ، ہو سکتا ہے کہ یہ بھی تمہارے لئے آزمائش ہو ، اور مخصوص مدت تک کی مہلت ہو “ ۔ معمر نامی راوی کہتے ہیں : جابرس اور جابلق سے مراد ، مشرق اور مغرب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7074
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالنُّخَيْلَةِ حِينَ صَالَحَهُ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِذَا كَانَ ذَا فَقُمْ فَتَكَلَّمْ وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ سَلَّمْتَ هَذَا الْأَمْرَ لِي . وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : أَخْبِرِ النَّاسَ بِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تَرَكْتَهُ . فَقَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ . قَالَ الشَّعْبِيُّ : وَأَنَا أَسْمَعُ . ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى ، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ إِمَّا كَانَ حَقًّا لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ ، أَوْ يَكُونُ حَقًّا كَانَ لِامْرِئٍ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : نخیلہ کے مقام پر ، میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صلح کی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جب یہ بات ہو گئی ہے ، تو آپ اٹھ کر کلام کریں اور یہ بات بیان کریں کہ آپ نے حکومت میرے حوالے کر دی ہے ، یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آپ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بتا دیں جسے آپ نے ترک کر دیا ہے ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں یہ بات سن رہا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : ” اما بعد ! سب سے بڑی سمجھداری ، پرہیز گاری ہے ، اور سب سے بڑی حماقت گنہگاری ہے ، یہ معاملہ جس کے بارے میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا ، اگر تو یہ میرا حق تھا ، تو پھر میں اسے معاویہ کے لئے چھوڑ رہا ہوں ، تاکہ اس امت کے درمیان بہتری ہو جائے اور ان کا خون بہنا بند ہو جائے ، اور اگر یہ کسی ایسے شخص کا حق تھا ، جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تو میں نے ایسا کر لیا ہے ( اور اس سے دست بردار ہو گیا ہوں ) مجھے نہیں معلوم کہ شاید یہ صورت حال بھی تم لوگوں کے لئے آزمائش ہو ، اور ایک مخصوص مدت تک کی مہلت ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7075
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي اجْتَمَعَ فِيهِ عَلِيٌّ وَمُعَاوِيَةُ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنَّهُ لَا يَجْمُلُ بِكَ أَنْ تَتَخَلَّفَ عَنْ صُلْحٍ يُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ صِهْرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ يَوْمَئِذٍ عَلَى بُخْتِيٍّ عَظِيمٍ فَقَالَ : مَنْ يَطْمَعُ فِي هَذَا الْأَمْرِ وَيَرْجُوهُ أَوْ يَمُدُّ لَهُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَمَا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِالدُّنْيَا قَبْلَ يَوْمَئِذٍ ذَهَبْتُ أَنْ أَقُولَ : يَطْمَعُ فِيهِ مَنْ ضَرَبَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى أَدْخَلَكُمَا فِيهِ . فَذَكَرْتُ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا فَأَعْرَضْتُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ أَرَادَ صُلْحَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَوَهِمَ الرَّاوِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب وہ دن آیا جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دومۃ الجندل کے مقام اکٹھا ہونا تھا ، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سے کہا: یہ چیز تمہارے لئے مناسب نہیں ہے کہ تم اس صلح سے پیچھے رہو ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں صلح کروا دے گا ، تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہو ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہو ، اس دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بڑے بختی اونٹ پر بیٹھ کر آئے اور بولے : اس معاملے کے بارے میں کون لالچ رکھتا ہے ؟ اور کون اس کی امید رکھتا ہے ؟ اور اس کی طرف گردن اٹھا کے دیکھتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس دن سے پہلے کبھی میں نے اپنے دل میں دنیا کے بارے میں نہیں سوچا تھا ، لیکن اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں یہ کہوں : اس کے بارے میں وہ شخص امید رکھتا ہے ، جس نے اسلام کی خاطر تمہارے ساتھ اور تمہارے باپ کے ساتھ جنگ کی تھی ، یہاں تک کہ تم دونوں کو اسلام میں داخل کروایا تھا ، لیکن پھر مجھے جنت اور اس کی نعمتوں کا خیال آ گیا ، تو میں نے اس سے اعراض کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، بظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ ) سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح ہے اور اس بارے میں راوی کو وہم ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، بظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہیں بلکہ ) سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح ہے اور اس بارے میں راوی کو وہم ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 7076
وَعَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ قَالَ : أَرْسَلَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ أَدْعُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُغَدِّي النَّاسَ فَدَعَوْتُهُ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : أَفْلَحَ الْوَجْهُ أَبَا الْفَضْلِ . قَالَ : وَوَجْهُكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ أَتَانِي رَسُولُكَ ، وَأَنَا أُغَدِّي النَّاسَ فَغَدَّيْتُهُمْ ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي عَلِيٍّ ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكَ ، وَأَخُوكَ فِي دِينِكَ ، وَصَاحِبُكَ مَعَ نَبِيِّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَهْرُكَ ، وَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُومَ بَعَلِيٍّ وَأَصْحَابِهِ فَاعْفِنِي مِنْ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّ أَوَّلَ مَا أُجِيبُكَ أَنِّي قَدْ شَفَّعْتُكَ فِي عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا لَوْ شَاءَ مَا كَانَ أَحَدٌ دُونَهُ ، وَلَكِنَّهُ أَبَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا رَأْيُهُ . ثُمَّ بَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ فِي ابْنِ عَمِّكَ وَابْنِ عَمَّتِكَ وَأَخِيكَ فِي دِينِكَ وَصَاحِبِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَلِيِّ بَيْعَتِكَ . فَقَالَ : وَاللَّهِ لَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ عَنْ دَارِي لَخَرَجْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
صہیب ، جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، تاکہ میں انہیں بلا کے لاؤں ، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو وہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے ، میں نے انہیں بلایا وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: اے ابوالفضل ! آپ چہرہ کامیاب ہو ( یعنی دعا دی ) تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین ! آپ کا چہرہ بھی ( کامیاب ہو ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب آپ کا قاصد میرے پاس آیا تو میں لوگوں کو کھانا کھلا رہا تھا تو انہیں کھانا کھلانے کے فوراً بعد میں آپ کے پاس آ گیا ہوں ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو علی کے بارے میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ، وہ آپ کے چچازاد ہیں ، دین میں آپ کے بھائی ہیں نبی کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی ہیں ، اور آپ کے سسرالی عزیز بھی بنتے ہیں ، مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ علی اور اس کے ساتھیوں کو اس کا نگران بنا دیں اور مجھے اس معاملے میں معاف رکھیں اے امیر المونین ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو سب سے پہلا جواب تو یہ دیتا ہوں کہ علی کے بارے میں ، میں نے آپ کی سفارش کو قبول کر لیا ، اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ چاہیں تو کوئی شخص ان کے علاوہ مناسب نہیں ہے ، لیکن اگر وہ انکار کر دیتے ہیں ، تو پھر ان کی رائے کا معاملہ مختلف ہے ، پھر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں آپ کو آپ کے چچازاد اور آپ کے پھوپھی زاد اور آپ کے دین میں ، آپ کے بھائی اور آپ کے رسول کے صحابی ہونے میں آپ کے ساتھی اور آپ کے بیعت کے نگران ہونے کے حوالے سے آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے یہ حکم دے دیں کہ میں اپنے گھر سے نکل جاؤں تو میں نکل جاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7077
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَعْذِرُنِي مِنْ عَلِيٍّ فَقُلْتُ : " مَا لَهُ ؟ " . فَقُلْتُ : جَاءَنِي رَجُلٌ فَعَادَنِي . فَقَالَ عَلِيٌّ : تَنَحَّيْ عَنْهُ وَإِلَّا أُنْفِدُكِ بِالرُّمْحِ . وَأَنَّهُ طَعَنَنِي فِي مُقَدَّمِ رَأْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كَانَ عَلِيٌّ لِيَطْعَنَكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : فتح کے مکہ کے سال ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے کہا: کیا آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے نہیں بچائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے کہا: ایک شخص میرے پاس آیا وہ میرے پیچھے چھپ گیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس کے آگے سے ہٹ جاؤ ! ورنہ میں تمہیں نیزہ مار دوں گا ، اور پھر انہوں نے میرے سر کے اگلے حصے پر نیزہ چبھو بھی دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی کو تمہیں نیزہ نہیں مارنا چاہیے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔