حدیث نمبر: 7065
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ فِي اللَّهِ فِي مُلْكِهِ ، وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَحَقٌّ أَوْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ قَوْمٍ يَرَى أَنَّهُ شَاهِدٌ وَلَيْسَ بِشَاهِدٍ فَهُوَ شَاهِدُ زُورٍ . وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْ شُعَيْرَةٍ . وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجَاءٌ السَّقَطِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی سفارش ، اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن جائے ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں ، اللہ تعالیٰ کے مدمقابل ہوتا ہے ، اور جو شخص کسی خصومت میں مدد کرتا ہے اور وہ یہ جانتا ہی نہیں کہ یہ حق ہے یا باطل ہے ؟ تو وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ، جب تک وہ الگ نہیں ہو جاتا ہے اور جو شخص کسی قوم کے ساتھ چل کر جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہ ہو ، تو وہ جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہوتا ہے اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ چھوٹے جو کے دو کناروں کے درمیان گرہ لگائے ، مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال ، کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رجاء سقطی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رجاء سقطی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔