حدیث نمبر: 7063
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِهِ حَقًّا ، فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ : حَنَشٌ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ سَعِيدُ بْنُ رَحْمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ظالم کی باطل چیز میں مدد کرتا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے حق کو پرے کر دے ، تو وہ اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول کے ذمہ سے لاتعلق ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں نے کتابوں میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حنش ہے اور وہ متروک ہے ، ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا بزرگ ہے ، معجم صغیر اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سعید بن رحمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں نے کتابوں میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی حنش ہے اور وہ متروک ہے ، ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا بزرگ ہے ، معجم صغیر اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی سعید بن رحمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7064
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَحَدِ بَنِي أَشْجَعَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُعِينَهُ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ ، فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَيَّاشُ بْنُ مُؤْنِسٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن شرحبیل رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوا شجع سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چل کے جانا ہے ، تاکہ اس کی مدد کرے ، جبکہ وہ یہ جانتا ہو کہ وہ شخص ظالم ہے ، تو وہ اسلام سے نکل جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیاش بن مونس ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیاش بن مونس ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔