کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جب دو مقابل فریق آنے کا وعدہ کریں اور ان میں سے کوئی ایک نہ آئے
حدیث نمبر: 7018
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ لَهُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اخْتَصَمَ عِنْدَهُ الرَّجُلَانِ فَاتَّعَدَا الْمَوْعِدَ فَجَاءَ أَحَدُهُمَا ، وَلَمْ يَأْتِ الْآخَرُ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلَّذِي جَاءَ عَلَى الَّذِي لَمْ يَجِئْ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي الدَّابَّةِ وَالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ . وَالَّذِي نَحْنُ فِيهِ أَمْرُ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِقَوِيٍّ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے مقدمہ پیش کیا اور دونوں نے مخصوص وقت میں آنے کا وعدہ کیا اور ان میں سے ایک آ گیا اور دوسرا نہیں آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے شخص کے حق میں اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دیا ، جو نہیں آیا تھا ۔ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ جانور ، یا اونٹ یا بکری وغیرہ کے مقدمے میں ہو گا ، اور ہمارا اور آپ کا اختلاف لوگوں پر حکومت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔