کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: دونوں فریقوں کے درمیان برابری رکھنا
حدیث نمبر: 7016
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُعَنِّفَ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ دُونَ الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ غُصْنٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دو مقابل فریقوں میں سے ایک فریق کو چھوڑ کر دوسرے پر سختی کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن غصن ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7017
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا ابْتُلِيَ أَحَدُكُمْ فِي الْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَقْضِيَنَّ ، وَهُوَ غَضْبَانُ وَلْيُسَوِّ بَيْنَهُمْ بِالنَّظَرِ وَالْمَجْلِسِ وَالْإِشَارَةِ ، وَلَا يَرْفَعْ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ فَوْقَ الْآخَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص مسلمانوں کے درمیان قاضی بننے کی آزمائش میں مبتلاء ہو ، تو وہ غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ دے ، دیکھنے ، بیٹھنے کی جگہ ، اور اشارہ کرنے کے حوالے سے ، وہ لوگوں کے درمیان برابری رکھے ، اور دو فریقوں میں سے کسی ایک کے خلاف دوسرے کی بہ نسبت آواز بلند نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7017
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف