کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جسے حاکم کے پاس بلایا جائے اور وہ نہ آئے
حدیث نمبر: 7019
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دُعِيَ إِلَى حَاكِمٍ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ فَلَمْ يَأْتِهِ فَهُوَ ظَالِمٌ " . - أَوْ قَالَ : " لَا حَقَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو ، کسی مسلمان حکمران کے پاس بلایا جائے ، اور وہ اس کے پاس نہ آئے ، تو وہ ظالم ہو گا “ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : اس کا کوئی حق نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء بن ابومیمونہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1362)»
حدیث نمبر: 7020
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِذَا طَالَبَ الرَّجُلُ الْآخَرَ ، فَدَعَا أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ إِلَى الَّذِي يَقْضِي بَيْنَهُمَا فَأَبَى أَنْ يَجِيءَ فَلَا حَقَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب ایک شخص ، دوسرے کے خلاف مقدمہ کرے ، اور پھر ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اس شخص کی طرف جانے کے لئے کہے ، جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہو ، اور دوسرا آنے سے انکار کر دے ، تو پھر اُس کو حق نہیں ملے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1363)»
حدیث نمبر: 7021
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِذَا خَاصَمَ الرَّجُلُ الْآخَرَ فَدَعَا أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ إِلَى الرَّسُولِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمَا ، مَنْ أَبَى أَنْ يَجِيءَ فَلَا حَقَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” جب ایک شخص کا دوسرے سے اختلاف ہو ، اور ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہے : رسول کے پاس چلیں ، تاکہ وہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیں ، تو جو شخص آنے سے انکار کرے گا ، اسے حق نہیں ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7021
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7078)»
حدیث نمبر: 7022
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دُعِيَ إِلَى سُلْطَانٍ فَلَمْ يَجِبْ فَهُوَ ظَالِمٌ لَا حَقَّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو سلطان کی طرف بلایا جائے اور وہ نہ جائے ، تو وہ ظالم ہو گا اور اس کو حق نہیں ملے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی روح بن عطاء ہے ، جسے ابن عدی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7022
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6939)»