حدیث نمبر: 6878
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ ؟ فَقَالَ : " ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى الَّذِي خَلَقَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا ظلم زیادہ بڑا ظلم ہے ؟ آپ نے فرمایا : زمین کا ایک ذراع ، جسے کوئی مسلمان شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ہتھیا لیتا ہے ، تو قیامت کے دن زمین کی گہرائی تک ( وزنی ) طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کی گہرائی کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، جس نے اُسے پیدا کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6879
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا . إِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ، زمین کا ایک ذراع ہے ، تم دو آدمیوں کو پاؤ گے ، جو کسی زمین یا گھر میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہوں گے ، اور ان دو میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ذراع ہتھیا لے گا ، جب وہ اسے ہتھیا لے گا ، تو قیامت کے دن تک کے لئے تو اُسے سات زمینوں کا طوق پہنا دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6880
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : فَذَكَرَ أَحْمَدُ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ وَالْمَتْنَ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد نے یہ حدیث اسی سند اور اسی متن کے ساتھ اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6881
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایک بالشت زمین ناحق طور پر حاصل کرے گا ، اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6882
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيَّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ، ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَقَالَ : " ثُمَّ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ظلم کے طور پر ، ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اس بات کا پابند کرے گا کہ وہ زمین کو کھودے ، یہاں تک کہ ساتویں زمین کی آخری حد تک پہنچ جائے ، اور پھر اس زمین کا طوق قیامت کے دن تک کے لئے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جو مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے اس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ” پھر قیامت کے دن اسے طوق پہنا دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جو مختلف اسانید کے ساتھ منقول ہے اس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ” پھر قیامت کے دن اسے طوق پہنا دیا جائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 6883
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص نا حق طور پر زمین لے گا ، اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ ( میدان ) محشر تک اس کی مٹی لاد کر لے جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6884
قَالَ أَيْضًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا [ فَمَا فَوْقَهُ ] كُلِّفَ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءَ ، ثُمَّ يَحْمِلُهُ إِلَى الْمَحْشَرِ " . ¤ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام طبرانی نے ایک روایت یہ نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ایک بالشت ، یا اس سے زیادہ زمین ظلم کے طور پر لے گا ، اُسے اس بات پر پابند کیا جائے گا کہ وہ اسے کھودے ، یہاں تک کہ پانی تک پہنچ جائے اور پھر وہ اس مٹی کو لاد کر میدان محشر تک لے کے جائے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6885
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ ، وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمْزَةُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص زمین میں سے ناجائز طور پر کچھ بھی حاصل کرے گا ، تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ، اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابومحمد ہے ، جسے ابوحاتم اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمزہ بن ابومحمد ہے ، جسے ابوحاتم اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6886
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ مَكَّةَ فَكَأَنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ تَحْتِ قَدَمِ الرَّحْمَنِ وَمَنْ أَخَذَ مِنْ سَائِرِ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُطَوَّقًا عُنُقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مکہ میں سے ، بالشت بھر ( زمین ناحق طور پر ) لے گا ، تو گویا اس نے رحمان کے پاؤں کے نیچے سے اُسے لیا اور جو شخص باقی ساری زمین میں سے کچھ بھی ناحق طور پر لے گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا گیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے اور کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے اور کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 6887
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا جَاءَ بِهِ يَحْمِلُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَتَرَكَهُ أَبُو زُرْعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے ایک بالشت جگہ لے گا ، جب وہ ( قیامت کے دن ) آئے گا ، تو اس نے سات زمینیں اٹھائی ہوئی ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ ابوزرعہ نے اسے متروک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عقبہ سدوسی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ ابوزرعہ نے اسے متروک کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6888
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ . وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایک بالشت زمین ( ناجائز ) طور پر لے گا ، اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے ، وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جسے ابن عدی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6889
وَعَنِ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص زمین میں سے ایک بالشت ظلم کے طور پر لے گا ، قیامت کے دن اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6890
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ قُلِّدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانٍ الْوَاسِطِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص بالشت بھر زمین ( ناجائز طور پر ) لے گا ، اُسے قیامت کے دن سات زمینوں کا ( طوق ) پہنایا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان واسطی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان واسطی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6891
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَصَبَ رَجُلًا أَرْضًا ظُلْمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَالْكَلَامُ فِيهِ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ظلم کے طور پر کسی کی زمین غصب کر لے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالی اس پر غضب ناک ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6892
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُطَوَّقًا مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ فِي عُنُقِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بالشت بھر زمین ظلم کے طور پر لے گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو سات زمینیں طوق کے طور پر اس کی گردن میں ڈالی گئی ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔