کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو زمین کے نشانات تبدیل کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 6802
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلْعُونٌ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، مَلْعُونٌ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ عَلَامَ الْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الْغَصَبِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ملعون ہے ، جو اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے ، وہ شخص ملعون ہے ، جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے ، اور وہ شخص ملعون ہے ، جو زمین کے نشانات تبدیل کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک منقول حدیث آگے آئے گی ، جو غصب کے بارے میں ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «آخرجه البزار فى المسند (1293)»
حدیث نمبر: 6803
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ حَسَّنَ لَهُ بَعْضَ حَدِيثِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص زمین کے نشانات تبدیل کرتا ہے ، قیامت کے دن اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہو گا ، اللہ تعالٰی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ، البتہ امام ترمذی نے اس کی نقل کردہ ایک حدیث کو حسن قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6803
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (23/17)»