عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا فَمَاتَتْ ، فَجَاءَ إِخْوَتُهُ، فَقَالُوا : نَحْنُ فِيهَا شَرَعٌ سَوَاءٌ . فَأَبَى ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی والدہ کو کھجوروں کا ایک باغ زندگی بھر کے لئے دے دیا ، اس خاتون کا انتقال ہو گیا ، اس شخص کے بھائی آئے اور بولے : ہم اس باغ میں برابر کے حصہ دار ہیں ، تو اس شخص نے انکار کر دیا ، ان لوگوں نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ کو ان لوگوں کے درمیان وراثت کے اصولوں کے مطابق تقسیم کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عمری ، اُس کے متعلقہ فرد کے لئے جائز ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
وَلَهُ فِي رِوَايَةِ : " الْعُمْرَى بِمَنْزِلَةِ الْمِيرَاثِ " . ¤ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” عمری ، وراثت کے حکم میں ہے “ ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْمَرَ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هِيَ لِوَرَثَتِهِ " - أَوْ كَمَا قَالَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ قَزْعَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کو عمری کے طور پر یہ کوئی چیز دی ، اس نے نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : یہ اس کے ورثاء کو ملے گی ، یا جیسے بھی آپ نے فرمایا : ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن بن قزعہ کا معاملہ مختلف ہے اور ویسے وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ، البتہ حسن بن قزعہ کا معاملہ مختلف ہے اور ویسے وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى فَهِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ مِنْ بَعْدِهِ - يُرِيدُ بِهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ - أَوْ أُرْقِبَ رُقْبَى فَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْعُمْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو عمری کے طور پر کوئی چیز دی جائے ، تو وہ اس کو اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کو ملے گی “ ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اُس کے پسماندگان میں شامل ہیں ، وہ وراثت کے طور پر اسے حاصل کر لیں گے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور جب رقبی کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو ، تو وہ بھی عمری کے حکم میں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْقُبُوا ، أَوْ لَا تَعْمُرُوا ، فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَهِيَ الْعُمْرَى وَالْمَرْقَبُ " . قُلْتُ : وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : الْعُمْرَى : أَنْ تَقُولَ : هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ . وَالرُّقْبَى : أَنْ تَقُولَ : هِيَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رقبی کے طور پر کوئی چیز نہ دو ، عمری کے طور پر کوئی چیز نہ دو ، اگر تم ایسا کرتے ہو ، تو پھر وہ عمری اور مرقب شمار ہو گی“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : عمری سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ یہ تمہاری زندگی بھر کے لئے تمہاری ہے اور رقبی سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ میرے اور تم میں سے جو بعد میں فوت ہو گا ، یہ اس کو ملے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ متروک ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ متروک ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ۔