مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعُمْرَى . باب: عمریٰ کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْقُبُوا ، أَوْ لَا تَعْمُرُوا ، فَإِنْ فَعَلْتُمْ فَهِيَ الْعُمْرَى وَالْمَرْقَبُ " . قُلْتُ : وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : الْعُمْرَى : أَنْ تَقُولَ : هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ . وَالرُّقْبَى : أَنْ تَقُولَ : هِيَ لِلْآخِرِ مِنِّي وَمِنْكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رقبی کے طور پر کوئی چیز نہ دو ، عمری کے طور پر کوئی چیز نہ دو ، اگر تم ایسا کرتے ہو ، تو پھر وہ عمری اور مرقب شمار ہو گی“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یہ کیسے ہو گا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : عمری سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ یہ تمہاری زندگی بھر کے لئے تمہاری ہے اور رقبی سے مراد یہ ہے کہ تم یہ کہو کہ میرے اور تم میں سے جو بعد میں فوت ہو گا ، یہ اس کو ملے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ متروک ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ۔