کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تحفہ بھجوانا اور یہ کب ملکیت میں آتا ہے ؟
حدیث نمبر: 6723
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَتْ أُمِّي تَبْعَثُنِي بِالْهَدِيَّةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقْبَلُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ مجھے تحفے کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کرتی تھیں اور آپ اُسے قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6723
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (189/4)»
حدیث نمبر: 6724
وَلَهُ عِنْدَ أَحْمَدَ أَيْضًا ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ : كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُطْرِفُهُ إِيَّاهُ فَيَقْبَلُهُ مِنِّي . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، امام أحمد نے یہ بھی روایت نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ( وہ بیان کرتے ہیں : ) مجھے میری بہن کوئی چیز دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کرتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُسے مجھ سے قبول کر لیتے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (188/4)»
حدیث نمبر: 6725
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ : بَعَثَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَطْفٍ مِنْ عِنَبٍ ، فَأَكَلْتُهُ ، فَقَالَتْ أُمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَتَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بِقَطْفٍ ؟ قَالَ : " لَا " فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَآنِي قَالَ : " غُدَرُ غُدَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ الْوَلِيدِ ؛ ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : لَا أَعْرِفُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ إِلَّا الْحَكَمَ . هَذَا مَعْنَى كَلَامِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھے انگوروں کا گچھہ دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، وہ میں نے خود کھا لیے ، میری والدہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا عبداللہ آپ کے پاس گچھہ لے کے آیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! اس کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : نالائق ، نالائق ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ولید ہے ، جس کا ذکر ابن عدی نے کتاب الکامل میں کیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے اور یہ بات بیان کی ہے : میں سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے منقول اس حدیث سے صرف حکم سے منقول روایت کے طور پر واقف ہوں ، ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6725
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6726
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَبَعَثَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مَعَ ابْنٍ لَهَا بِشَاةٍ ، فَحَلَبَ ، ثُمَّ قَالَ : " انْطَلِقْ بِهِ إِلَى أُمِّكَ " . فَشَرِبَتْ حَتَّى رُوِيَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى فَحَلَبَ ، ثُمَّ قَالَ :" اسْقِ أَبَا بَكْرٍ " ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى فَحَلَبَ ، ثُمَّ شَرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ذریعے آپ کی خدمت میں بکری بھجوائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر ارشاد فرمایا تم اسے لے کر اپنی والدہ کے پاس جاؤ ، اس خاتون نے اسے پی لیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، پھر وہ بچہ دوسری بکری لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ابوبکر کو پلاؤ ! پھر وہ ایک اور بکری لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر خود اُس کا دودھ پیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، الرحمن بن ابولیلی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6726
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (103)»
حدیث نمبر: 6727
وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا : " إِنِّي أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً ، وَأَوَاقِيَ مِنْ مِسْكٍ ، وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ ، وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ ، فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ " . قَالَ : وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَأُمُّ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ أَعْرِفُهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ فِي إِخْبَارِهِ بِالْمُغَيَّبَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام کلثوم بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طور پر بھجوائے ہیں ، لیکن میرا خیال ہے نجاشی کا انتقال ہو چکا ہے ، اور وہ تحفہ میرے پاس واپس آ جائے گا ، اگر وہ میرے پاس واپس آ گیا ، تو وہ ( حلہ ) تمہارا ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی طرح ہوا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ، آپ کا تحفہ اسی طرح آپ کے پاس واپس آ گیا ، تو آپ نے اپنی ازواج میں سے ہر ایک خاتون کو مشک کا ایک اوقیہ دیا ، اور باقی بچ جانے والا مشک اور حلہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ام موسیٰ بنت عقبہ سے میں واقف ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس میں ۔ انہوں نے ان خواتین کے بارے میں بتایا ہے ، جن کے شوہر موجود نہیں ہوتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد 1 المسند (404/6)»