حدیث نمبر: 6712
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہدیہ واپس نہ کرو ! مسلمانوں کو مارو نہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6713
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ ذِرَاعًا ، أَوْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ " . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " وَمَنْ دَعَاكُمْ . . " . إِلَى آخِرِهِ . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے اُسے دو ، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے ، اسے پناہ دو ، جو شخص تمہاری دعوت کرے ، تم اس کی دعوت میں جاؤ ، اور جو شخص تمہیں پائے تمہیں تحفے کے طور پر دے ، تو تم اسے قبول کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تحفے کے طور پر تمہیں دستی ، یا پایا دے ، تو تم اسے قبول کر لو “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص تمہیں بلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف لیث بن ابوسلیم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تحفے کے طور پر تمہیں دستی ، یا پایا دے ، تو تم اسے قبول کر لو “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص تمہیں بلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف لیث بن ابوسلیم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 6714
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَتَهَادَوْنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صِلَةً بَيْنَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ أَسْلَمَ النَّاسُ لَتَهَادَوْا مِنْ غَيْرِ فَاقَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْهَدِيَّةِ صِلَةً بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ : " لَوْ قَدْ أَسْلَمَ النَّاسُ تَهَادَوْا مِنْ غَيْرِ جُوعٍ " . ¤ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ؛ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مسلمان باہمی تعلق کی وجہ سے ایک دوسرے کو تحفے دیا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر سب لوگ اسلام قبول کر لیں ، تو وہ فاقہ کا شکار ہوئے بغیر ایک دوسرے کو تحفے دے سکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحفے دینے کا حکم دیتے تھے ، اور آپ یہ فرماتے تھے : ” اگر سب لوگ اسلام قبول کر لیں ، تو وہ بھوکے رہے بغیر ایک دوسرے کو تحفے دے سکیں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحفے دینے کا حکم دیتے تھے ، اور آپ یہ فرماتے تھے : ” اگر سب لوگ اسلام قبول کر لیں ، تو وہ بھوکے رہے بغیر ایک دوسرے کو تحفے دے سکیں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور کچھ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6715
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، تَهَادَوْا ، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تَسُلُّ السَّخِيمَةَ ، وَتُورِثُ الْمَوَدَّةَ ، فَوَاللَّهِ لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى ذِرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے انصار کے گروہ ! ایک دوسرے کو تحفے دو ، کیونکہ تحفہ ، دشمنی ( یا ناراضگی ) کو ختم کرتا ہے ، محبت پیدا کرتا ہے ، اللہ کی قسم اگر مجھے پایا تحفے کے طور پر دیا جائے ، تو میں قبول کر لوں گا ، اور اگر مجھے ایک دستی کی دعوت دی جائے ، تو میں قبول کر لوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6716
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَهَادَوْا تَحَابُّوا ، وَهَاجِرُوا تُورِثُوا أَوْلَادَكُمْ مَجْدًا ، وَأَقِيلُوا الْكِرَامَ عَثَرَاتِهِمْ " . ¤ وَفِيهِ الْمُثَنَّى أَبُو حَاتِمٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک دوسرے کو تحفے دو ، باہمی محبت پیدا ہو گی ، اور ہجرت کرو ، تمہاری اولاد میں بزرگی آئے گی ، اور صاحب حیثیت لوگوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرو “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مثنی ابوحاتم ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6717
قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ تَهَادَوْا وَلَوْ بِفِرْسِنِ شَاةٍ ، فَإِنَّهُ يُثْبِتُ الْمَوَدَّةَ وَيُذْهِبُ الضَّغَائِنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ؛ وَثَّقَهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے مومنوں کی خواتین ! ایک دوسرے کو تحفے دو ! خواہ بکری کا پایا ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ یہ چیز محبت کو برقرار رکھتی ہے ، اور دشمنی کو ختم کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن سلیمان ہے ، جسے طبرانی نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن سلیمان ہے ، جسے طبرانی نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6718
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَهَادَوْا تَزْدَادُوا حُبًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى أَبُو حَاتِمٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَكَذَلِكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَيْزَارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” ایک دوسرے کو تحفے دو ! تمہاری باہمی محبت زیادہ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی ابوحاتم ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، عبیداللہ بن عیزار نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی ابوحاتم ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، عبیداللہ بن عیزار نامی راوی کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 6719
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَهَادَوْا ، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُضَعِّفُ الْحُبَّ ، وَتَذْهَبُ بِغَوَائِلِ الصَّدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُعْرَفْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک دوسرے کو تحفے دو ! کیونکہ تحفہ محبت کو بڑھا دیتا ہے اور سینے کے شر ( اور فساد ) کو رخصت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 6720
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِعْمَ الشَّيْءُ الْهَدِيَّةُ أَمَامَ الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حاجت کے وقت تحفہ دینا ، اچھا کام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6721
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول کر لیتے تھے اور آپ صدقہ قبول نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن سعید ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن سعید ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6722
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً وَهَبَتْ لَهَا رِجْلَ شَاةٍ تُصُدِّقَ بِهَا عَلَيْهَا [ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ أَنْ تَقْبَلَهَا ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک خاتون نے انہیں بکری کی ٹانگ ہبہ کی ، جو بکری اس عورت کو صدقہ کے طور پر دی گئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو یہ حکم دیا کہ وہ اسے قبول کر لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔