عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عاریت ( کے طور پر لی ہوئی چیز ) کو ادا کیا جائے گا “ ( یعنی واپس کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ سَعِيدِ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةَ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمَ غَارِمٌ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سعید نے ، اُس شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار ! عاریت کو ادا کیا جائے گا ، عطیہ کے طور پر لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی ، قرض کو ادا کیا جائے گا ، اور ضامن شخص جرمانے کا پابند ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔