حدیث نمبر: 6703
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امانت اس کو ادا کر دو ! جس نے تمہارے پاس امانت کے طور پر رکھوائی ہو ، اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے ، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6704
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : تَكَلَّمُوا فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم امانت اس کو ادا کر دو ! جس نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو ، اور تم اس شخص کے ساتھ خیانت نہ کرنا ، جس نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان بن صالح مصری ہے ، ابن ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان بن صالح مصری ہے ، ابن ابوحاتم کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6705
وَعَنْ أَبِي قُرَادٍ السُّلَمِيُّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِطَهُورٍ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَتَتَبَّعْنَاهُ ، فَحَسَوْنَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى مَا صَنَعْتُمْ ؟ " . قُلْنَا : حُبُّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . قَالَ : " فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ يُحِبَّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ ، وَاصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ ، وَأَحْسِنُوا جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقراد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے وضو کا پانی منگوایا ، آپ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈبویا ، پھر آپ نے وضو کیا ، ہم نے وہ پانی لیا اور اسے پی لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول بھی تمہارے ساتھ محبت رکھیں ، تو جب تمہیں امین بنایا جائے ، تو تم امین بن جاؤ اور جب بولو ، تو سچ بولو ، اور جو شخص تمہارے پڑوس میں آئے اس کے ساتھ اچھا پڑوس رکھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6706
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا : حِفْظُ أَمَانَةٍ ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں ، اگر تمہارے درمیان ہوں گی ، تو پھر تمہیں دنیا میں سے جو بھی چیز نہیں ملتی ، تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، امانت کی حفاظت کرنا ، اچھے اخلاق ، بیچ بولنا اور کھانے میں احتیاط ( یعنی حلال کھانا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6707
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دُنْيَاكُمُ الْأَمَانَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنی دنیا میں سے ، تم سب سے پہلے امانت کو غیر موجود پاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6708
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : اتَّقُوا اللَّهَ ، وَأَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ سے ڈرو ! اور امانتیں ان کے اہل افراد کو ادا کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن صدقہ ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن صدقہ ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6709
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ : اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ ، وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ ، وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم مجھے چھ چیزوں کی اپنی ذات کے حوالے سے ضمانت دو ، میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، جب تم بات کرو تو سیچ بولو ، جب تم وعدہ کرو ، تو پورا کرو ، جب تمہیں امین بنایا جائے ، تو ادائیگی کرو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو اور اپنے ہاتھ روک کے رکھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔