کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اپنا سامان کسی مفلس کے پاس پاتا ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَالَهُ - يَعْنِي عِنْدَ مُفْلِسٍ - بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص مفلس ہو جائے ، پھر کوئی اپنا مال بعینہ پائے ( راوی کہتے ہیں : یعنی اس مفلس کے پاس پائے ) تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1301)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَوَجَدَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مَالَهُ ، وَلَمْ يَكُنِ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَلَمْ يَكُنِ اقْتَضَى مِنْ مَالِهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مفلس ہو جائے اور پھر کوئی شخص اپنا مال اس کے پاس پائے ، اور اس نے اپنے مال کا کوئی معاوضہ وصول نہ کیا ہو ، تو وہ اس مال کا زیادہ حق دار ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے : ” اس نے اپنے مال میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا ہو“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔