حدیث نمبر: 6696
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ : كُنْتُ بِمِصْرَ ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . فَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا سَرَقُ . قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! أَنْتَ تُسَمَّى بِهَذَا الِاسْمِ ، وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّانِي وَلَنْ أَدَّعِ ذَلِكَ . فَقُلْتُ : [ وَ ] لِمَ سَمَّاكَ سَرَقَ ؟ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِبَعِيرَيْنِ ، فَابْتَعْتُهُمَا مِنْهُ [ فَقُلْتُ : انْطَلِقْ حَتَّى أُعْطِيكَ ] ، ثُمَّ دَخَلْتُ بَيْتِي وَخَرَجْتُ مِنْ خَلْفٍ فَمَضَيْتُ ، فَبِعْتُهُمَا ، فَقَضَيْتُ بِهِمَا حَاجَتِي ، وَتَغَيَّبْتُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ الْأَعْرَابِيَّ قَدْ خَرَجَ ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا الْأَعْرَابِيُّ مُقِيمٌ ، فَأَخَذَنِي ، فَقَدَّمَنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : " مَاذَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ " . قُلْتُ : قَضَيْتُ بِثَمَنِهِمَا حَاجَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اقْضِهِ " . قُلْتُ : لَيْسَ عِنْدِي . قَالَ : " أَنْتَ سَرَقُ ، اذْهَبْ بِهِ يَا أَعْرَابِيُّ ، فَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ حَقَّكَ " . فَجَعَلَ النَّاسُ يُسَاوِمُونَهُ ، فَيَقُولُ : مَاذَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : مَا نُرِيدُ أَنْ نَبْتَاعَهُ مِنْكَ أَوْ نَفْدِيَهُ مِنْكَ . فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي ، اذْهَبْ فَقَدْ أَعْتَقْتُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن بیلمانی بیان کرتے ہیں : میں مصر میں موجود تھا ، ایک شخص نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہاری رہنمائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی طرف نہ کروں ؟ میں نے کہا: جی ہاں ! تو انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے بتایا میں ان کے پاس گیا اور دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں سرق ( چور ) ہوں ، میں نے کہا: سبحان اللہ کیا آپ نے یہ نام رکھا ہوا ہے ؟ حالانکہ آپ اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ، انہوں نے فرمایا : یہ نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا تھا اور میں اسے نہیں چھوڑ دوں گا ، میں نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام سرق کیوں رکھا تھا ؟ انہوں نے بتایا ایک دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دو اونٹ لے کر آیا ، میں نے اس سے وہ دونوں اونٹ خرید لئے ، میں نے کہا: تم چلو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں ، میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور پیچھے کی طرف سے باہر نکل گیا اور چلا گیا ، میں نے وہ دونوں اونٹ فروخت کر دیے اور ان کے ذریعے میں نے اپنی ضرورت پوری کی ، میں چھپا رہا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اب وہ دیہاتی چلا گیا ہو گا ، ایک دن میں باہر آیا تو وہ دیہاتی وہاں مقیم تھا ، اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا اور آپ کو ساری صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے جو کیا ہے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے اس کی قیمت اپنی ضرورت میں استعمال کر لی ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے ادائیگی کرو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ” سرق “ ہو ، اے دیہاتی ! تم اسے لے جاؤ اور اسے فروخت کر دو ، یہاں تک کہ اپنا حق پورا کر لو ، لوگوں نے اس شخص کے ساتھ بھاؤ تاؤ شروع کیا ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم یہ چاہتے ہیں یا تو اسے تم سے خرید لیں ، یا تمہاری طرف سے اسے فدیہ دے دیں ، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم تم میں سے کوئی ایک مجھ سے زیادہ اس کا محتاج نہیں ہے ، تم جاؤ ! میں نے تمہیں آزاد کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6697
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَيْنِيِّ أَنَّ سَرَقَ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ بُرًّا قَدِمَ بِهِ فَتَجَازَاهُ ، فَتَغَيَّبَ عَنْهُ ، ثُمَّ ظَفِرَ بِهِ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِعْ سَرَقَ " . قَالَ : فَانْطَلَقْتُ بِهِ فَسَاوَمَنِي أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، ثُمَّ بَدَا لِي فَأَعْتَقْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن القینی بیان کرتے ہیں : سیدنا سرق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے گندم خریدی ، جسے سورت بقرہ آتی تھی اور وہ گندم لے کے چھپ گئے ، پھر اس شخص نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سرق کو فروخت کر دو ! راوی کہتے ہیں : میں اسے ساتھ لے کے نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے میرے ساتھ بھاؤ تاؤ کیا ، پھر مجھے یہ مناسب لگا ، تو میں نے اسے آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6698
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَرَ عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَالَهُ ، وَبَاعَهُ بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزِّيَادِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے مال پر پابندی لگا دی تھی ، اور اس مال کو اس قرض کے عوض میں فروخت کر دیا تھا ، جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے ذمہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن معاویہ زیادی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن معاویہ زیادی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6699
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ - قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ادَّانَ بِدَيْنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَحَاطَ ذَلِكَ بِمَالِهِ ، وَكَانَ مُعَاذٌ مِنْ صُلَحَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا جَعَلْتُ فِي نَفَسِي حِينَ أَسْلَمْتُ أَنْ أَبْخَلَ بِمَالٍ مَلَكْتُهُ ، وَإِنِّي أَنْفَقْتُ مَالِي فِي أَمْرِ الْإِسْلَامِ ، فَأَبْقَى ذَلِكَ عَلَيَّ دَيْنًا عَظِيمًا ، فَادْعُو غُرَمَائِي فَاسْتَرْفِقْهُمْ ، فَإِنْ أَرْفَقُونِي فَسَبِيلُ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَبَوْا فَاجْعَلْنِي لَهُمْ مِنْ مَالِي . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُرَمَاءَهُ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَرْفُقُوا بِهِ فَقَالُوا : نَحْنُ نُحِبُّ أَمْوَالَنَا . فَدَفَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالَ مُعَاذٍ كُلَّهُ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ مُعَاذًا عَلَى بَعْضِ الْيَمَنِ لِيُجْبِرَهُ ، فَأَصَابَ مُعَاذٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ مَرَافِقِ الْإِمَارَةِ مَالًا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمُعَاذٌ بِالْيَمَنِ . فَارْتَدَّ بَعْضُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَاتَلَهُمْ مُعَاذٌ وَأُمَرَاءُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّرَهُمْ عَلَى الْيَمَنِ حَتَّى دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ قَدِمَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِمَالٍ عَظِيمٍ ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ قَدِمْتَ بِمَالٍ عَظِيمٍ ، فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْتِيَ أَبَا بَكْرٍ فَتَسْتَحِلَّهُ مِنْهُ ، فَإِنْ أَحَلَّهُ لَكَ طَابَ لَكَ وَإِلَّا دَفَعْتَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : لَقَدْ عَلِمْتَ يَا عُمَرُ مَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لِيُجْبِرَنِي فِي حِينِ دَفْعِ مَالِي إِلَى غُرَمَائِي وَمَا كُنْتُ لِأَدْفَعَ لِأَبِي بَكْرٍ شَيْئًا مِمَّا جِئْتُ بِهِ إِلَّا إِنْ سَأَلَنِيهِ ، فَإِنْ سَأَلَنِيهِ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَأْخُذْ أَمْسَكْتُهُ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنِّي لَمْ أَرَ لَكَ وَلِنَفْسِي إِلَّا خَيْرًا . ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَانْصَرَفَ ، فَلَمَّا وَلَّى عُمَرُ دَعَاهُ مُعَاذٌ ، فَقَالَ : إِنِّي مُطِيعُكَ ، وَلَوْلَا رُؤْيَا رَأَيْتُهَا لَمْ أُطِعْكَ ؛ إِنِّي أَرَانِي فِي نَوْمِي غَرِقْتُ فِي جَوْبَةٍ ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِيَدَيَّ ، فَأَنْجَيْتَنِي مِنْهَا ، فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ لَهُ مُعَاذٌ كَنَحْوٍ مِمَّا كَلَّمَ بِهِ عُمَرَ فِيمَا كَانَ مِنْ غُرَمَائِهِ ، وَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَبْرِهِ ، ثُمَّ أَعْلَمَهُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْمَالِ حَتَّى قَالَ : وَسَوْطِي هَذَا مِمَّا جِئْتُ بِهِ فَمَا رَأَيْتُ مَخْذُومًا رَأَيْتُ فَأَطِبْهُ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ لَكَ كُلُّهُ يَا مُعَاذُ ، فَالْتَفَتَ عُمَرُ إِلَى مُعَاذٍ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، هَذَا حِينَ طَابَ ، فَكَانَ مُعَاذٌ مِنْ أَكْثَرِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالًا ، وَكَانَ مُعَاذٌ أَوَّلَ رَجُلٍ أَصَابَ مَالًا مِنْ مَرَافِقِ الْإِمَارَةِ . ¤ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَمَضَتِ السُّنَّةُ فِي مُعَاذٍ بِأَنْ خَلَّفَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَالِهِ ، وَلَمْ يَأْمُرْ بِبَيْعِهِ ، وَفِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ : عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَلَمْ يُسَمِّهِ . وَفِي الصَّحِيحِ غَيْرُ حَدِيثٍ كَذَلِكَ ، وَلَا يُعْلَمُ فِي أَوْلَادِ كَعْبٍ ضَعِيفٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی ، توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بہت سا قرض لے لیا ، یہاں تک کہ وہ قرض ان کے مال جتنا ہو گیا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے نیک لوگوں میں سے ایک تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں مال کے حوالے سے بخل سے کام نہیں لوں گا ، جو مال میری ملکیت میں ہو گا ، تو میں نے اسلام کے مختلف امور کے بارے میں اپنا مال خرچ کیا ، اب میرے اوپر بہت سا قرض باقی رہ گیا ہے ، آپ میرے قرض خواہوں کو بلائیں اور ان سے نرمی کے لئے کہیں ، اگر انہوں نے مجھ سے نرمی کر لی تو ٹھیک ہے اور اگر وہ نہ مانیں ، تو آپ میرا مال انہیں دے دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قرض خواہوں کو بلایا اور ان کے سامنے یہ پیشکش رکھی کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کریں ان لوگوں نے عرض کی : ہم اپنے مال کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا سارا مال ان کے حوالے کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کے کچھ حصے کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیں ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن سے ، حکومت کے عہدے کی وجہ سے بہت سا مال ملا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے ، یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد مرتد ہو گئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ یمن کے مختلف امراء نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی یہاں تک کہ وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بہت سا مال لے کر ( مدینہ منورہ ) آئے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے : تم بہت سا مال لے کر آئے ہو ، میرا یہ خیال ہے کہ تم سیدنا ابوبکر کے پاس جاؤ اور ان سے یہ مال حاصل کر لو ، اگر انہوں نے اسے تمہارے لئے حلال قرار دے دیا ، تو یہ تمہارے لئے اچھی بات ہو گی ، ورنہ تم یہ ان کے حوالے کر دینا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صرف اس لئے بھیجا تھا ، تاکہ آپ مجھے یہ موقع دیں کہ میں اپنی ضرورت پوری کر لوں ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب آپ نے میرا مال میرے قرض خواہوں کو دے دیا تھا ، اب میں جو کچھ لے کے آیا ہوں اس میں سے کوئی بھی چیز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے نہیں کروں گا ، البتہ اگر انہوں نے مجھ سے پوچھ لیا ، تو معاملہ مختلف ہے ، اگر انہوں نے مجھ سے پوچھ لیا تو میں ان کے حوالے کر دوں گا اور اگر انہوں نے کچھ نہ لیا تو میں وہ اپنے پاس رکھوں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں نے تمہارے لئے اور اپنے لئے صرف بھلائی سوچی تھی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کے چلے گئے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کے چلے گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا اور کہا: میں آپ کی بات مان لیتا ہوں میں نے ایک خواب دیکھا تھا ، اگر وہ نہ دیکھا ہوتا ، تو میں نے آپ کی بات نہیں ماننی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بڑے گول گڑھے میں ڈوب رہا ہوں ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس سے نجات دلا دی ، آپ میرے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں ، یہ دونوں حضرات گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی مانند گفتگو کی ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کی تھی ، جو ان کے قرض خواہوں کے سلسلے میں تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کے بارے میں تھی ، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ یمن سے مال لے کے آئے ہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ لاٹھی بھی اس چیز میں شامل ہے ، جو میں لے کے آیا ہوں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاذ ! وہ سارا مال تمہارا ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور بولے : اے معاذ ! اب معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے زیادہ مال دار ہو گئے اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ وہ پہلے فرد ہیں ، جنہوں نے حکومتی عہدے کی وجہ سے مال حاصل کیا ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ سنت جاری ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال کو اپنے تصرف میں لیا ، آپ نے اسے فروخت کرنے کا حکم نہیں دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن شہاب نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، انہوں نے ان صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ” صحیح “ میں ، اس کے علاوہ اس کی طرح کی ایک روایت منقول ہے ، اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی غریب راوی کا پتہ نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن شہاب نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، انہوں نے ان صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ” صحیح “ میں ، اس کے علاوہ اس کی طرح کی ایک روایت منقول ہے ، اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی غریب راوی کا پتہ نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 6700
وَعَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا جَمِيلًا سَمْحًا مِنْ خَيْرِ شَبَابِ قَوْمِهِ ، وَلَا يَسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى ادَّانَ دَيْنًا أَغْلَقَ مَالَهُ . قَالَ : فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُكَلِّمَ غُرَمَاءَهُ ، فَفَعَلَ ، فَلَمْ يَضَعُوا لَهُ شَيْئًا ، فَلَوْ تُرِكَ لِأَحَدٍ بِكَلَامِ أَحَدٍ لَتُرِكَ لِمُعَاذٍ بِكَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّى بَاعَ مَالَهُ ، وَقَسَّمَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ . فَقَامَ مُعَاذٌ لَا مَالَ لَهُ . فَلَمَّا حَجَّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ لِيَجْبُرَ . قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ بَحَّرَ فِي هَذَا الْمَالِ مُعَاذٌ ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْيَمَنِ ، وَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نوجوان خوبصورت مہربان شخص تھے ، اپنی قوم کے بہترین فرد تھے ، جو بھی شخص ان سے کوئی چیز مانگتا تھا ، وہ اسے دے دیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ انہوں نے اتنا قرض لے لیا کہ جس نے ان کے مال کو بند کر دیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ بات کی کہ آپ ان کے قرض خواہوں سے بات چیت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، لیکن ان کے قرض خواہوں نے کچھ بھی معاف نہیں کیا ، اگر کسی شخص کو کسی سے بات کرنے کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کرنے کی وجہ سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ان کا مال فروخت کروا کے ان کے قرض خواہوں کو ادائیگیاں کر دیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایسی حالت میں رہ گئے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کر لیا ، تو آپ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کریں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ پہلے فرد ، جنہوں نے یہ مال حاصل کیا ، وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ یمن سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔