کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے قرض کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے اور اس بارے میں کوشش کرتا ہے ( یا اس بارے میں پریشان ہوتا ہے )
حدیث نمبر: 6657
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا ، ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ فَأَنَا وَلِيُّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کا جو بھی فرد قرض لیتا ہے اور پھر اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہے اور پھر اسے ادا کرنے سے پہلے مر جاتا ہے ، تو میں اس کا نگران ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6657
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4838) اخرجه احمد فى المسند (74/6 و 154)»
حدیث نمبر: 6658
قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ " . فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ وہ قرض لیا کرتی تھی ان سے کہا: گیا : آپ قرض کیوں لیتی ہیں ؟ جبکہ آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں ہے ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ قرض کی ادائیگی کی نیت رکھتا ہو ، تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نصیب ہوتی ہے “ ۔ ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) تو میں وہ مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6658
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغیرہ
حدیث نمبر: 6659
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَحَافِظٌ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد اور حفاظت کرنے والا نصیب ہوتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6660
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ ، أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَتْ : فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ لَا يَزَالَ مَعِي مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ . وَفِيهِ قِصَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جس شخص کے ذمہ قرض لازم ہو اور اس کی نیت اسے ادا کرنے کی ہو ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ اس کی ادائیگی کی کوشش کرتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ اُس کے ساتھ رہتا ہے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میرے ساتھ مسلسل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ رہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6661
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : " كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ وَسَبَّبَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ سَعِيدَ بْنَ الصَّلْتِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا وَاحِدًا يَرْوِي عَنِ الصَّحَابَةِ فَلَيْسَ بِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” اُس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کا سبب پیدا کر دیتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ محمد بن علی بن حسین ( شاید امام باقر مراد ہیں ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے امام طبرانی کی سند متصل ہے ، البتہ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : سعید بن صلت نے ہشام بن عروہ سے
یہ روایت نقل کی ہے اور میں نے ایسے ایک شخص کو پایا ہے ، جس نے صحابی سے روایت نقل کی ہو ، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6661
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 6662
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، فِيمَا أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ ، وَفِيمَا ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ ، فَلَمْ آكُلْ ، وَلَمْ أَشْرَبْ ، وَلَمْ أَلْبَسْ ، وَلَمْ أُضَيِّعْ ، وَلَكِنْ أَتَى عَلَيَّ إِمَّا حَرْقٌ ، وَإِمَّا سَرَقٌ ، وَإِمَّا وَضِيعَةٌ . فَيَقُولُ اللَّهُ : صَدَقَ عَبْدِي ، أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ ، فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ ، فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الدَّقِيقِيُّ ؛ وَثَّقَهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ مقروض کو بلائے گا ، یہاں تک کہ اس کو سامنے کھڑا کر دے گا اور یہ کہے گا : اے ابن آدم ! تو نے اس شخص کا قرض کس لئے حاصل کیا تھا ؟ اور لوگوں کے حقوق کیوں ضائع کیے تھے ؟ وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ بات جانتا ہے کہ میں نے یہ لیا تھا اور میں نے اسے کھایا نہیں تھا ، پیا نہیں تھا ، لباس کے طور پر پہنا نہیں تھا ، اور میں نے ضائع نہیں کیا تھا ، بلکہ مجھ پر آفت آ گئی تھی ، جو جلنے کی صورت میں ، یا چوری کی صورت میں یا نقصان کی صورت میں تھی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے نے سچ کہا: ہے اور میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ آج تمہاری طرف سے ادائیگی کر دوں ، پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوائے گا اور وہ اُس کے میزان کے پلڑے میں رکھ دے گا ، تو اس کی نیکیوں کا پلڑا ، اس کی برائیوں سے بھاری ہو جائے گا ، تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کے فضل کی وجہ سے ، جنت میں داخل ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی صدقہ دقیقی ہے مسلم بن ابراہیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1332) اخرجه احمد فى المسند (1707 مختصراو 1708 مطولا)»
حدیث نمبر: 6663
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ تَدَيَّنَ فِيهِنَّ ، ثُمَّ مَاتَ ، وَلَمْ يَقْضِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْهُ : رَجُلٌ يَكُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَخْلَقُ ثَوْبُهُ ، فَيَخَافُ أَنْ تَبْدُوَ عَوْرَتَهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَمُوتُ وَلَمْ يَقْضِ ، وَرَجُلٌ مَاتَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَلَمْ يَجِدْ مَا يُكَفِّنُهُ وَلَا مَا يُوَارِيهِ ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ ، وَرَجُلٌ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعَنَتَ فَتَعَفَّفَ بِنِكَاحِ امْرَأَةٍ ، فَمَاتَ وَلَمْ يَقْضِ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْضِي عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مَعَ اخْتِلَافٍ فِي بَعْضِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کی صورت حال ایسی ہے کہ جو شخص اس صورت حال میں قرض لے اور اسے ادا کیے بغیر مر جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا ، وہ شخص جو اللہ کی راہ میں ( جہاد میں ) ہو اور اس کا لباس پرانا ہو جائے اور اسے یہ اندیشہ ہو کہ اب اس کی شرمگاہ ظاہر ہو جائے گی ، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ، پھر وہ شخص مر جائے اور اس نے قرض واپس نہ کیا ہو ، یا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان شخص فوت ہو جائے ، اور وہ شخص اس کو کفن دینے کے لئے اور اس کے جسم کو ڈھانپنے کے لئے کوئی چیز نہ پاتا ہو ( تو وہ قرض لے کر کفن دفن کا انتظام کرے ) اور پھر وہ قرض ادا کرنے سے پہلے خود فوت ہو جائے ، اور وہ شخص جسے اپنی ذات کے حوالے سے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ، تو وہ کسی عورت کے ساتھ نکاح کر کے پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو ( اور وہ قرض لے کر شادی کر لے ) اور پھر قرض کی ادائیگی سے پہلے انتقال کر جائے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف سے قرض کو ادا کروا دے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1340)»