کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نیت کرتا ہے ، کہ وہ اپنا قرض ادا نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 6652
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَيْهَا فَهُوَ زَانٍ ، وَمَنِ ادَّانَ دَيْنًا ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَى صَاحِبِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَهُوَ سَارِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ : إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَفِيهَا [ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْأُخْرَى فِيهَا مَنْعُ الصَّدَاقِ خَالِيًا عَنِ الدَّيْنِ ، وَفِيهَا ] مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْجَزَرِيُّ شَيْخُ الْبَزَّارِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مہر کے عوض میں ، کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ اس عورت کو اس کا مہر ادا نہیں کرے گا ، تو وہ زنا کرنے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ متعلقہ فرد کو اسے ادا نہیں کرے گا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ شخص چور شمار ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری روایت کی سند میں صرف مہر نہ دینے کا ذکر ہے ، اس میں قرض کا ذکر نہیں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین جزری ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری روایت کی سند میں صرف مہر نہ دینے کا ذکر ہے ، اس میں قرض کا ذکر نہیں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین جزری ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 6653
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَكِيلِ الزُّبَيْرِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيِّ أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ قَالُوا لِصُهَيْبٍ : يَا أَبَانَا ، إِنَّ أَبْنَاءَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُونَ عَنْ آبَائِهِمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَنَوَى أَنْ لَا يُعْطِيَهَا مِنْ صَدَاقِهَا شَيْئًا مَاتَ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ زَانٍ . وَأَيُّمَا رَجُلٍ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ بَيْعًا فَنَوَى أَنْ لَا يُعْطِيَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا مَاتَ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ خَائِنٌ ، وَالْخَائِنُ فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ حَدِيثًا فِي الدَّيْنِ خَاصَّةً غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ هَذَا مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار ، جو زبیر بن شعیب بصری کے وکیل ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابا جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے صاحبزادے ، اپنے والد کے حوالے سے احادیث روایت کرتے ہیں : تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر ، میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے : ” جو شخص کسی عورت کے ساتھ شادی کرے ، اور وہ یہ نیت کرے کہ وہ اس عورت کو اس کے مہر میں سے کچھ نہیں دے گا ، تو جس دن وہ مرتا ہے ، وہ زانی کے طور پر مرتا ہے ، اور جو شخص کسی دوسرے شخص سے سودا کرتے ہوئے کوئی چیز خریدے اور یہ نیت کرے کہ اس کی قیمت میں سے اُسے کچھ نہیں دے گا ، تو جب وہ مرتا ہے ، تو خیانت کرنے والے کے طور پر مرتا ہے ، اور خیانت کرنے والا جہنم میں ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو صرف قرض کے بارے میں ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور عمرو بن دینار نامی یہ راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور عمرو بن دینار نامی یہ راوی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6654
وَعَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مَنَ الْمَهْرِ ، أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ . وَأَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَدَانَ دَيْنًا لَا يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى صَاحِبِهِ حَقَّهُ أَخَذَ مَالَهُ ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهِ دَيْنَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ سَارِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
میمون کردی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی عورت کے ساتھ تھوڑے ، یا زیادہ مہر کے عوض میں شادی کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس عورت کو اس کا حق ادا کرے گا ، وہ اس عورت کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہوتا ہے اگر وہ ایسی حالت میں مر جاتا ہے اور اس نے اس عورت کا حق ادا نہیں کیا ہوتا ، تو جب وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ زانی شمار ہو گا ، اور جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ متعلقہ شخص کو اس کا حق ادا کرے گا ، وہ اس شخص کا مال لے لیتا ہے اور وہ مر جاتا ہے ، اور اس کا قرض اسے ادا نہیں کرتا ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ چور شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6655
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَدَانَ دَيْنًا ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقِّهِ . وَمَنِ اسْتَدَانَ دَيْنًا ، وَهُوَ لَا يَنْوِي أَنْ يُؤَدِّيَهُ فَمَاتَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : ظَنَنْتُ أَنِّي لَا آخُذُ لِعَبْدِي بِحَقِّهِ . فَيُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَيُجْعَلُ فِي حَسَنَاتِ الْآخَرِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ الْآخَرِ ، فَتُجْعَلُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ نیت رکھتا ہے کہ وہ اُسے ادا کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف سے اس کے ذمہ لازم حق کو ادا کروا دے گا ، اور جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کی یہ نیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اسے ادا کرے گا ، اور وہ پھر اسی حالت میں مرجاتا ہے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا : تم نے یہ گمان کیا تھا کہ میں اپنے بندے کا حق اسے نہیں دلواؤں گا ؟ پھر اس شخص کی نیکیاں لی جائیں گی اور دوسرے شخص کی نیکیوں میں شامل کر دی جائیں گی ، اور اگر اس شخص کی نیکیاں نہیں ہوں گی ، تو دوسرے شخص کے گناہ لے کر اُس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 6656
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَيْنَانِ : فَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ ، فَأَنَا وَلِيُّهُ ، وَمَنْ مَاتَ وَلَا يَنْوِي قَضَاءَهُ فَذَاكَ الَّذِي يُؤْخَذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کے قرض ہوتے ہیں ، جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کی نیت کرتا ہے ، تو میں اس کا نگران ہوؤں گا اور جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس کی ادائیگی کی نیت ہی نہیں رکھتا ، تو یہ وہ شخص ہے ، جس کی نیکیاں لی جائیں گی ، اُس دن جب دینار اور درہم نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔