کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا
حدیث نمبر: 6648
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، اور جب کسی شخص کو ( وصولی کے لئے ) کسی دوسرے کے سپرد کیا جائے ، تو اسے چلے جانا چاہیئے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6648
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1298)»
حدیث نمبر: 6649
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَقَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ عَرَفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی سودے میں ، دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ، اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، جب ایک شخص کو کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا جائے گا ، تو اُسے دوسرے کے پیچھے چلے جانا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6650
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْغَنِيَّ الظَّلُومَ ، وَلَا الشَّيْخَ الْجَهُولَ ، وَلَا الْفَقِيرَ الْمُخْتَالَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْغَنِيَّ الظَّلُومَ ، وَالشَّيْخَ الْجَهُولَ ، وَالْعَائِلَ الْمُخْتَالَ " . ¤ وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ ، ظالم خوشحال شخص اور جاہل بوڑھے اور غریب متکبر کو پسند نہیں کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ ، ظالم خوشحال ، جاہل بوڑھے اور غریب متکبر کو ناپسند کرتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1300)»
حدیث نمبر: 6651
وَعَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا الْحَقَّ مِنْ قَوِيِّهَا غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ثُمَّ قَالَ : " مَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ حَقِّهِ هَذِهِ وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ ، وَنُونُ الْمَاءِ ، وَمَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ كَذَا وَهُوَ سَاخِطٌ كُتِبَ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، وَلَيْلَةٍ وَجُمُعَةٍ ، وَشَهْرٍ ظُلْمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ، طاقتور شخص سے حق کو کسی تردد ( یا مشکل ) کے بغیر نہیں لے سکتا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کا قرض خواہ ، اپنے حق کے حوالے سے مقروض سے راضی ہو کر جائے ، تو اس ( مقروض ) کے لیے زمین کے جانور ، پانی کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور جس شخص کا قرض خواہ اُس سے ناراض ہو کر جائے تو اس ( مقروض ) کے خلاف ہر دن اور رات میں ، ہر جمعے ( یعنی ہفتے ) میں ، اور ہر مہینے میں زیادتی نوٹ کی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6651
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (233/24)»