حدیث نمبر: 6645
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ أَتَاهُ أُنَاسٌ مِنْهُمْ فَقَالُوا : إِنَّ لَنَا دُيُونًا ؟ لَمْ تَحِلَّ ، فَقَالَ : " ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ منورہ سے نکالنے کا حکم جاری کیا ، تو ان میں سے کچھ افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: ہم نے لوگوں سے قرض لینے ہیں جن کا وقت ابھی نہیں آیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کچھ معاف کر دو اور کچھ پہلے لے لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6646
عَنْ أَشْيَاءَ ، فَذَكَرَهَا مِنْهَا : أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ . قَالَ : وَالْآجِلُ بِالْعَاجِلِ أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ رَجُلٌ : أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ . فَذَكَرَهُ . ¤ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ فِي الْبَزَّارِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزوں سے منع کیا تھا ، انہوں نے اُس میں اس کا بھی ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر والی ادائیگی کے عوض میں جلدی ادائیگی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے ، راوی نے یہ بات بیان کی ہے : تاخیر والی ادائیگی کے بدلے میں جلدی ادائیگی سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک ہزار درہم دینے ہوں اور پھر وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو جلدی دے دیتا ہوں ، اور آپ باقی رقم چھوڑ دیں ، تو انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور
یہ روایت ( یا یہ راوی ) بزار میں بھی ہے ۔
یہ روایت ( یا یہ راوی ) بزار میں بھی ہے ۔
حدیث نمبر: 6647
وَعَنْ أَبِي الْمُعَارِكِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ غَافِقٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مَهْرَةَ مِائَةُ دِينَارٍ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ ، فَغَنِمُوا غَنِيمَةً حَسَنَةً فَقَالَ الْمَهْرِيُّ : أُعَجِّلُ لَكَ سَبْعِينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ تَمْحُوَ عَنِّيَ الْمِائَةَ ، وَكَانَتِ الْمِائَةُ مُسْتَأْخَرَةً فَرَضِيَ الْغَافِقِيُّ بِذَلِكَ ، فَمَرَّ بِهِمَا الْمِقْدَادُ ، فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ لِيُشَهِّدَهُ ، فَلَمَّا قَصَّ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ قَالَ : كِلَاكُمَا قَدْ أَذِنَ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْمُعَارِكِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعارک بیان کرتے ہیں : غافق سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مہرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ایک سو دینار لینے تھے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بات ہے ان لوگوں کو اچھی غنیمت حاصل ہوئی تو مہری نے کہا: میں تمہیں ستر دینار فوری ادا کر دیتا ہوں ، اس شرط پر کہ تم ایک سو کی ادائیگی والی تحریر مٹا دو ( یعنی باقی رقم چھوڑ دو ) حالانکہ ایک سو کی رقم بعد میں ادا کی جانی تھی ، غافقی شخص اس بات سے راضی ہو گیا ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس سے گزرے ، اس شخص نے ان کے جانور کی لگام تھام لی ، تاکہ انہیں گواہ بنا لے ، جب اس نے انہیں پورا واقعہ سنایا ، تو انہوں نے فرمایا : تم دونوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا ہے ( یعنی سود والا کام کرنے کی کوشش کی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابومعارک سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابومعارک سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔