کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نقصان ( کے حوالے سے ادائیگی ) کو معاف کر دینا
حدیث نمبر: 6605
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتِ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : أَيْ بِأَبِي وَأُمِّي ، إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ تَمْرَ مَالِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ وَحَشَدْنَاهُ ، لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَصَبْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُهُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ ، فَبَعَثْنَا عَلَيْهِ فَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَا ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( أَلَا لَا يَصْنَعُ خَيْرًا ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ التَّمْرِ فَجَاءَ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا ، وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ ، [ مَا شِئْتَ ] ؟ فَوَضَعَ لَهُمْ مَا نَقَصُوا . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ كَلَامٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے اور میرے بیٹے نے ، فلاں شخص سے اس کی زمین میں سے کھجوروں کا درخت ( یا باغ ) خریدا ، ہم نے اسے شمار کر لیا ، اس کی دیکھ بھال کی ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، ہمیں اس درخت میں سے صرف اتنا ملا کہ جسے ہم خود کھا سکتے ہیں ، یا برکت کی امید رکھتے ہوئے کسی مسکین کو کھلا سکتے ہیں ( یعنی ہمیں اس میں نقصان ہو گیا ) ہم نے اُسے کہا: کہ ہماری جو کمی ہوئی ہے ، تو اس حساب سے ہمیں ادائیگی معاف کر دو ، تو اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ہمیں کوئی چیز معاف نہیں کرے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! کیا وہ بھلائی نہیں کرے گا ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، راوی کہتے ہیں : اس بات کی اطلاع کھجور کے مالک کو ملی ، تو وہ آیا اور اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اگر آپ چاہیں تو جتنا اس کا نقصان ہوا ہے ، میں اس حساب سے ادائیگی چھوڑ دیتا ہوں ، اور اگر آپ چاہیں تو میں پورے مال کی ادائیگی چھوڑ دیتا ہوں ، جیسے آپ چاہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے نقصان کے حوالے سے ادائیگی معاف کروا دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عبدالرحمن بن ابورجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6605
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (69/6)»