کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مزارعت کا بیان
حدیث نمبر: 6594
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ : أَفَاءَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ . فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ؛ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي . فَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خیبر مال فئے کے طور پر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہاں رہنے دیا ، آپ نے وہاں کی زمین ( کی پیداوار ) کو ان لوگوں کے اور اپنے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، آپ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے پیدوار کا اندازہ لگایا ، پھر یہ ارشاد فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! تم میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، تم نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو قتل کیا ، تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ، لیکن تمہارے ساتھ میرا بغض مجھے اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ میں تمہارے ساتھ زیادتی کروں ، میں نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ کھجور کے بیس ہزار وسق ہوں گے ، اگر تم چاہو ، تو اس حساب سے تم لے لو اور اگر تم نہیں مانتے ، تو پھر میں لے لیتا ہوں ، انہوں نے کہا: اسی ( حق اور انصاف ) کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6594
درجۂ حدیث محدثین: إسناده اس
حدیث نمبر: 6595
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا ، أَوْ يَرُدُّوا ، فَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْعُمَرِيُّ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا ، انہوں نے ان لوگوں کے لئے پیدوار کا اندازہ لگایا اور پھر انہیں یہ اختیار دیا کہ وہ اس حساب کے مطابق یا وصولی کر لیں ، یا ادائیگی کر دیں ، تو ان لوگوں نے کہا: اسی ( انصاف کی ) وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمری ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ وَعَدَ الْيَهُودَ : " أَنْ يُعْطِيَهُمْ نِصْفَ الثَّمَرَ عَلَى أَنْ يُعَمِّرُوهَا ، ثُمَّ أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ " . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُهَا ، ثُمَّ يُخَيِّرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَتْرُكُوهَا . وَأَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضٍ فَاشْتَكَوْا إِلَيْهِ غَلَاءَ خَرْصِهِ فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَذَكَرَ لَهُ مَا ذَكَرُوا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هُوَ مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ شَاءُوا أَخَذُوهَا ، وَإِنْ شَاءُوا تَرَكُوهَا أَخَذْنَاهَا ، فَرَضِيَتِ الْيَهُودُ ، وَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ ، وَالْأَرْضُ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ : " لَا يَجْتَمِعُ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ " . ¤ فَلَمَّا نَمَى ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ مَلَّكَكُمْ هَذِهِ الْأَمْوَالَ ، وَشَرَطَ لَكُمْ أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ ، فَقَدْ أَذِنَ اللَّهُ فِي إِجْلَائِكُمْ . فَأَجْلَى عُمَرُ كُلَّ يَهُودِيٍّ ، وَنَصْرَانِيٍّ عَنْ أَرْضِ الْحِجَازِ ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ کے رسول نے خیبر کو فتح کر لیا تو آپ نے یہودوں کے ساتھ یہ طے کیا کہ یہودی نصف پھل مسلمانوں کو ادا کریں گے ، اور زمین کی دیکھ بھال ( یعنی کام کاج ) وہ کریں گے اور یہ کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا ، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں یہاں رہنے دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، انہوں نے وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگایا اور پھر ان لوگوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اس کے مطابق یا تو حاصل کر لیں ، یا اتنا حصہ ترک کر دیں ، یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے آپ کے سامنے یہ شکایت کی کہ انہوں نے زیادہ اندازہ لگایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی جو ان لوگوں نے کہا: تھا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ چیز میرے پاس ہے ، یا رسول اللہ ! اگر یہ چاہیں تو یہ اس کے مطابق وصول کر لیں اور اگر چاہیں تو اسے چھوڑ دیں ، اس کو ہم لے لیتے ہیں تو یہودی راضی ہو گئے ، انہوں نے کہا: اسی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران ، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، یہ ارشاد فرمایا : ” جزیرہ نما عرب میں دو دین اکٹھے نہیں رہیں گے “ ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے خیبر کے یہودیوں کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اللہ کے رسول نے تمہیں ان زمینوں پر اس وقت تک رہنے دیا تھا اور تمہارے لئے یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ تمہیں اس وقت تک رہنے دیں گے ، جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں رہنے دے گا ، تو اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں جلاوطن کرنے کی اجازت دے دی ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر یہودی اور ہر عیسائی کو حجاز کی سرزمین سے جلاوطن کر دیا ، اور پھر وہاں کی سرزمین اہل مدینہ کے درمیان تقسیم کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے اور وہ صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1286)»
حدیث نمبر: 6597
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَى خَيْبَرَ عَلَى الشَّطْرِ أَوْ عَلَى الثُّلُثِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْخَزْرَجُ بْنُ الْخَطَّابِ ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک چوتھائی پیدوار کے عوض میں خیبر ( یہودیوں کو ) دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خزرج بن خطاب ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6597
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1287)»
حدیث نمبر: 6598
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا ، وَقَالَ : إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ فَلَا أَرَبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ . فَخَرَصَ النَّخْلَ ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ . فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهَا ، وَقَالُوا : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا وَتَعْمَلُونَ بِهِ الْيَوْمَ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ . وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا ، تو آپ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہ یہودیوں کے ساتھ حصے طے کر لیں ، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ، تو انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی بھی چیز لینے کو ناپسندیدہ قرار دیا اور یہ فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے اپنے اور تمہارے درمیان عدل کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ، تو تمہارے ہدیہ میں مجھے کوئی دلچپسی نہیں ہے ، پھر انہوں نے ان کی کھجوروں کا اندازہ لگایا جب ان کا اندازہ مکمل ہو گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں تمہارا حصہ ادا کر دیتا ہوں ، تم اس پر قائم رہو ، اگر تم چاہو ، تو تم ہمیں ہمارا حصہ ادا کر دو اور تم اس پر قائم رہو ، تو انہوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ حصہ ادا کر دیں گے اور اس پر قائم رہیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ نے ہمیں پیشکش کی ہے اور جس کے مطابق آپ عمل کر رہے ہیں ، اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ، یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) خیبر کے حصے ہر اس شخص کو ملے تھے ، جو حدیبیہ میں شریک ہوا تھا ، اس میں کوئی ایسا شخص شریک نہیں ہوا تھا ، جو حدیبیہ میں شریک نہ ہوا ہو ، اور اُن لوگوں کے علاوہ کوئی اور اس میں شریک نہیں ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں موجودگی کے زمانے میں کسی بھی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پیچھے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6598
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 6599
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ ، وَيُكَلِّمُونَهُ ، وَجَعَلُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ ، فَقَالُوا : هَذَا لَكَ وَتَخَفَّفْ عَنَّا ، وَتَجَاوَزْ ، قَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : يَا مَعْشَرَ يَهُودَ ، إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَدْلًا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ ، وَلَا أَرَبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ أَنَا لَا آكُلُهُ . فَخَرَصَ النَّخْلَ فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ . فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ قَالُوا : يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب ، فتح خیبر کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہاں کے پھل یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیں ، جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ، تو ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اناج تحفے کے طور پر دیا اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، انہوں نے خواتین کے کچھ زیور بھی انہیں دینا چاہے ، ان لوگوں نے کہا: یہ آپ کے لئے ہیں اور آپ ہمارے ساتھ تخفیف کر دیں اور درگزر سے کام لیں ، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ ! اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، اللہ کے رسول نے مجھے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ کرنے والے کے طور پر بھیجا ہے ، مجھے تمہاری دنیا کے ساتھ کوئی دلچپسی نہیں ہے اور میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی بھی نہیں کروں گا ، تم نے مجھے حرام کی پیشکش کی ہے ، میں اسے نہیں کھاؤں گا ، پھر انہوں نے کھجوروں کی پیدوار کا اندازہ لگایا ، جب وہ پیدوار کا اندازہ لگا کر فارغ ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کو اختیار دیا اور فرمایا : اگر تم چاہو ، تو میں تمہارے لئے تمہارے حصے کا ضامن بن جاتا ہوں اور اگر تم چاہو ، تو تم ہمارے لئے ہمارے حصے کے ضامن بن جاؤ اور باقی تم خود سنبھال لو ، تو ان لوگوں نے اس بات کو اختیار کیا کہ وہ لوگ ضامن بن جاتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابن رواحہ ! یہ جو آپ لوگ عمل کرتے ہیں ، اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں اور یہ دونوں حق کی وجہ سے قائم ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 6600
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ : عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ التَّمْرِ ، وَلَكُمْ نِصْفَهُ ، وَتَكْفُونَا الْعَمَلَ حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُ : إِنَّ تَمْرَنَا قَدْ طَابَ فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرُصُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ . فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عِنْدَ اللَّهِ ، وَعَدَاءً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكُمْ ، وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ ، وَاللَّهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ، وَأَنَا أَعْلَمُهَا . قَالَ : ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا : الَّذِي لَهُ وَالَّذِي لِلْيَهُودِ ثَمَانِينَ أَلْفِ وَسْقٍ . فَقَالَتِ الْيَهُودُ : خَرَبْتَنَا . فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : إِنْ شِئْتُمْ فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَنُسَلِّمُكُمُ الثَّمَرَةَ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْنَاكُمْ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَتَخْرُصُونَ عَنَّا . فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَبِهَذَا يَغْلِبُونَكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبید بن عمیر ، خیبر کے یہودیوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاہدے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ، یہ بیان کرتے ہیں : آپ نے ارشاد فرمایا : کھجوروں کی پیدوار کا نصف ہمیں ملے گا اور نصف تمہیں ملے گا اور کام کاج ہماری جگہ تم نے کرنا ہے ، یہاں تک کہ جب وہاں کا پھل تیار ہو گیا ، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی کہ ہماری کھجوریں تیار ہو چکی ہیں ، آپ کسی اندازہ لگانے والے کو بھیجیں ، جو ہمارے اور آپ کے درمیان ( پیدوار ) کا اندازہ لگا لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، جب انہوں نے وہاں کے کھجوروں کے درختوں کا چکر لگایا اور ان کا جائزہ لیا تو بولے : اللہ کی قسم ! میرے علم کے مطابق ، اللہ کی مخلوق میں سے تم سے زیادہ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والا اور اللہ کے رسول کا دشمن ، اور کوئی نہیں ہے ، اور اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی ہے ، جو میرے نزدیک تم سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ، اللہ کی قسم ! لیکن اس بات نے بھی مجھے اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ میں تمہارے ساتھ ذرے کے وزن جتنی زیادتی کروں ، اور میں اس بارے میں علم رکھتا ہوؤں ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے تمام پیداوار کا اندازہ لگایا ، جو ان کے اور یہودیوں کے حصے میں آنی تھی ، تو وہ اسی ہزار وسق بنتے تھے ، یہودیوں نے کہا: آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ، سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو ، تو ہمیں چالیس ہزار وسق دے دو ، ہم پھل تمہارے حوالے کر دیں گے اور اگر تم چاہو ، تو ہم تمہیں چالیس ہزار وسق دے دیتے ہیں ، اور تم ہم سے الگ ہو جانا ، ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر بولے : اسی کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں ، اسی کی وجہ سے یہ لوگ تم لوگوں پر غالب آئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
حدیث نمبر: 6601
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قُرَى عُرَيْنَةَ ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : قَالَ الْأَشْجَعِيُّ : يَعْنِي الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرینہ کی بستیوں کی طرف بھیجا ، آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں زمین کا حصہ وصول کر لوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اشجعی فرماتے ہیں : اس سے مراد ، پیدوار کا ایک تہائی ، یا ایک چوتھائی حصہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، شعبہ اور سفیان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (161/20) اخرجه احمد فى المسند (428/5)»
حدیث نمبر: 6602
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا ، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین صورتوں میں کھیتی باڑی کی جا سکتی ہے ، آدمی کی اپنی زمین ہو ، وہ اس میں کھیتی باڑی کرے ، آدمی کو زمین عطیہ کے طور پر دی گئی ہو ، تو وہ کھیتی باڑی کر لے گا ، آدمی نے زمین سونے یا چاندی کے عوض میں کرائے پر حاصل کی ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6602
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4269)»
حدیث نمبر: 6603
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُحَرِّمْ كِرَاءَ الْأَرْضِ ، وَلَكِنَّهُ أَمَرَ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ وَجِيهٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرائے کو حرام قرار نہیں دیا ہے ، بلکہ آپ نے عمدہ اخلاق کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن وجیہ ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11781)»
حدیث نمبر: 6604
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ قَالَ : فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ جَمِيعُهَا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا ، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ رَفِيقٌ ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَهُودَ عَلَى أَنَّكُمْ تَكْفُونَا الْعَمَلَ وَلَكُمْ شَطْرُ التَّمْرِ عَلَى أَنْ أُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرُصُ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتِ الْيَهُودُ التَّمْرَةَ ، فَلَمْ تَزَلْ خَيْبَرُ بَعْدُ لِلْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَأَخْرَجَهُمْ فَقَالَتْ يَهُودُ : أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : بَلَى ؛ عَلَى أَنْ يُقِرَّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، فَهَذَا حِينَ بَدَا لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ . فَأَخْرَجَهُمْ ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضُرِ افْتِتَاحَهَا قَالَ : فَأَهْلُهَا الْآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودِيٌّ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَامِرٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن عبدالرحمن بن نسطاس ، خیبر فتح ہونے کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فتح کر لیا ، وہاں کی تمام زمین ، کھیت اور کھجوروں کے باغات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئے لیکن آپ کے اور آپ کے اصحاب کے پاس اتنے غلام نہیں تھے ( جو وہاں کام کاج کر سکتے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ساتھ اس بات پر مصالحت کی کہ تم لوگ ہماری جگہ کام کرو گے اور کھجوروں کی نصف پیدوار تمہیں مل جائے گی ، اس شرط پر کہ میں تمہیں یہاں اس وقت تک رہنے دوں گا ، جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ، ( پھر جب کھجوریں اتارنے کا وقت آیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، تاکہ وہ وہاں کی پیدوار کا اندازہ لگائیں ، جب سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا ، تو یہودیوں نے کھجوروں کو اختیار کر لیا ۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کے مطابق ، خیبر مسلسل یہودیوں کے پاس رہا ، یہاں تک کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے انہیں وہاں سے نکالنے کا حکم دیا ، یہودیوں نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنی ، اتنی پیدوار کے عوض میں مصالحت نہیں کی تھی ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! کی تھی لیکن اس شرط پر کی تھی کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو منظور ہو گا ، اس وقت تک ہم تمہیں یہاں رہنے دیں گے ، اب مجھے یہ مناسب لگتا ہے کہ میں تمہیں نکال دوں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال دیا پھر انہوں نے وہاں کی زمین ان مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی فتح میں شریک ہوئے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین میں سے کسی ایسے شخص کو کچھ بھی نہیں دیا ، جو خیبر کی فتح میں موجود نہیں تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اب وہاں کے مالکان مسلمان ہیں اور وہاں کوئی یہودی نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا ، تاکہ پھلوں کے کھائے جانے سے پہلے زکوۃ کا شمار ہو سکے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عامر نامی اس راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف