کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اضافی پانی ، گھاس پھوس اور جس چیز کو نہ دینا حلال نہیں ہے
حدیث نمبر: 6606
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ : أَنْ لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَائِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : انہوں نے زمین کے بارے میں اپنے منشی کو خط میں لکھا کہ تم نے اپنے اضافی پانی کے بارے میں کسی کو روکنا نہیں ہے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اضافی پانی کو روک دے ، تاکہ اس کے ذریعے اضافی گھاس پھوس نہ ہو ، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص سے اپنے فضل کو روک لے گا “ ۔
حدیث نمبر: 6607
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَائِهِ أَوْ فَضْلَ كَلَئِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص اضافی پانی کو روک لے ، یا اضافی گھاس پھوس کو روک لے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن راشد خزاعی ہے اور وہ ثقہ ہے ، بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن راشد خزاعی ہے اور وہ ثقہ ہے ، بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6608
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ ، وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ فَيَهْزُلَ الْمَاءُ ، وَتَجُوعَ الْعِيَالُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اضافی پانی سے نہ روکو ، اور گھاس سے نہ روکو ، ورنہ پانی کم ہو جائے گا اور بال بچے بھوکے ہو جائیں گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6609
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : لَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ بَعْدَمَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ ، وَلَا فَضْلَ مَرْعًى " . ¤ قُلْتُ : أَخْرَجْتُهُ لِقَوْلِهِ " بَعْدَ مَا يَسْتَغْنِي عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسعودی بیان کرتے ہیں : میرے خیال میں انہوں نے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو اضافی پانی یا اضافی چراگاہ ( یعنی گھاس پھوس ) سے منع نہ کرو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے روایت کی ان الفاظ کی وجہ سے اسے یہاں نقل کیا ہے : ” اس کے بعد کہ آدمی اس سے بے نیاز ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6610
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اضافی پانی کو روک لے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا فضل اس سے روک لے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6611
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَصْلَتَانِ لَا يَحِلُّ مَنْعُهُمَا : الْمَاءُ وَالنَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو چیزیں ایسی جنہیں روکنا حلال نہیں ہے پانی اور آگ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6612
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْتُ بَيْنَ قَمِيصِهِ وَجِلْدِهِ فَقَبَّلْتُ مِنْهُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ فَقُلْتُ : مَا الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : " الْمِلْحُ " قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْمَاءُ ، وَالنَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، [ وَالْكَبِيرِ ] ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ؛ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں آپ کی قمیص اور آپ کی جلد کے درمیان داخل ہوا میں نے مہر نبوت کا بوسہ لیا میں نے عرض کی : وہ کیا چیز ہے ، جسے روکنا حلال نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نمک میں نے عرض کی : پھر کون سی چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : پانی اور آگ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ، جو متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سعید عطار ہے ، جو متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6613
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمْنَعُوا عِبَادَ اللَّهِ فَضْلَ الْمَاءِ ، وَلَا الْكَلَأَ ، وَلَا النَّارَ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَهَا مَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ وَقُوَّةً لِلْمُسْتَضْعَفِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِسَنَدٍ قَالَ فِيهِ ابْنُ حِبَّانَ : إِنَّ مَا رُوِيَ بِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے بندوں کو اضافی پانی سے ( اضافی ) گھاس سے اور ( اضافی ) آگ سے نہ روکو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت رکھنے والے لوگوں کے لئے ضرورت کی چیز اور کمزوروں کے لئے قوت کا باعث بنایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے بارے میں ابن حبان نے کہا: ہے کہ اس سند کے ساتھ جو روایت نقل کی جائے گی وہ جھوٹی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے بارے میں ابن حبان نے کہا: ہے کہ اس سند کے ساتھ جو روایت نقل کی جائے گی وہ جھوٹی ہو گی ۔
حدیث نمبر: 6614
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ طَرِيقٌ ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ ، وَلَا ابْنُ السَّبِيلِ عَارِيَةَ الدَّلْوِ ، وَالرِّشَاءِ ، وَالْحَوْضِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أَدَاةٌ تُعِينُهُ ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّكِيَّةِ ، يَسْقِي ، وَلَا يُمْنَعِ الْحَفْرَ إِذَا تَرَكَ الْحَافِرُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” راستے کو نہیں کاٹا جائے گا ( یعنی ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا ) اور اضافی پانی سے نہیں روکا جائے گا اور مسافر کو عاریت کے طور پر ڈول رسی اور حوض سے نہیں روکا جائے گا اگر اس کے پاس سامان موجود نہ ہو ، تو تم ویسے اس کی مدد کر دو ، اور اس کو چرخی کے پاس جانے دیا جائے گا ، تاکہ وہ پانی پی لے اور کنویں کے ارد گرد کی جگہ سے نہیں روکا جائے گا جو پچیس ذراع تک ہو گی کہ جانور پانی پینے کے بعد وہاں بیٹھ سکیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔
حدیث نمبر: 6615
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ فَسَأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ فَمَنَعَهُ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . وَمَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : النَّهْيَ عَنْ فَضْلِ الْمَاءِ فَقَطْ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفِرْدَوْسِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ : لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد آئے اور اس سے اضافی چیز مانگے اور وہ شخص اسے نہ دے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا اور جو شخص اضافی پانی روک لیتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی گھاس کو روک دے تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے اپنا فضل روک لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد نے اس میں سے صرف اضافی پانی کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن فردوسی ہے ، جسے ازدی نے اس حدیث کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا : یہ محفوظ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد نے اس میں سے صرف اضافی پانی کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن فردوسی ہے ، جسے ازدی نے اس حدیث کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا : یہ محفوظ نہیں ہے ۔