حدیث نمبر: 6545
عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ ابْتَاعَ أَرْضًا بِشَطِّ الْفُرَاتِ فَاتَّخَذَ بِهَا قَصَبًا فَلَمَّا أَتَى عُمَرُ ذَكَرَ أَنَّهُ ابْتَاعَ أَرْضًا ، فَقَالَ لَهُ : مِمَّنِ ابْتَعْتَ الْأَرْضَ ؟ قَالَ : مِنْ أَرْبَابِهَا . فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ اجْتَمَعَ أَصْحَابُهُ ، فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : مِمَّنِ ابْتَعْتَ الْأَرْضَ ؟ قَالَ : مِنْ أَرْبَابِهَا . فَقَالَ : هَلْ بِعْتُمُوهُ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَرْبَابُهَا . فَرُدَّ الْأَرْضَ إِلَى مَنِ اشْتَرَيْتَ ، وَاقْبِضِ الثَّمَنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَنُقِلَ عَنْ أَحْمَدَ أَنَّهُ وَثَّقَهُ ، وَالصَّحِيحُ عَنْ أَحْمَدَ تَضْعِيفُهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : عتبہ بن فرقد نے دریائے فرات کے کنارے زمین خریدی اور وہاں عمارت بنا لی ( یا نرکل لگا دیا ) ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو انہوں نے اس بات کا ذکر ان کے سامنے کیا کہ انہوں نے زمین خریدی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم نے وہ زمین کس سے خریدی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے مالکان ہے ، جب شام ہوئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھی اکھٹے ہوئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ کو بلا لیا اور بولے : تم نے وہ زمین کس سے خریدی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے مالکان سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : ) کیا تم لوگوں نے کچھ فروخت کیا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ اس زمین کے مالکان ہیں ، تو تم زمین اس شخص کو واپس کرو ، جس سے تم نے خریدی ہے اور قیمت قبضے میں لے لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن عامر بجلی ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد سے مستند روایت یہ منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن عامر بجلی ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد سے مستند روایت یہ منقول ہے کہ انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 6546
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْضِ الْأَعَاجِمِ ، فَقَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ أَرْضِ الْأَعَاجِمِ ، وَشِرَائِهَا ، وَكِرَائِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ سَاقِطٌ مِنْ أَصْلِ السَّمَاعِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ الْخَثْعَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : جو عجمیوں کی سرزمین کے بارے میں ہے ، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کی زمین کو فروخت کرنے اسے خریدنے اور اسے کرائے پر دینے ( یا لینے ) سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اصل سماع میں
یہ روایت ساقط ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ خثعمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اصل سماع میں
یہ روایت ساقط ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ خثعمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6547
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : اشْتَرَيْتُ أَنَا ، وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَاصِمُ ، مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ أَصَابَا غَنَمًا أَضَاعَهَا رَبُّهَا بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ الْمَرْءِ الْمَالَ وَالسَّرَفَ لِدِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے خیبر کے حصوں میں سے ایک سو حصے خرید لیے ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عاصم ! دو حملہ آور بھیٹریے ، جو بکریوں پر حملہ آور ہوں ، وہ بکریوں کے مالکان کا اس سے زیادہ نقصان نہیں کرتے ہیں ، جتنا مال اور شرف کی محبت ، آدمی کے دین کو خراب کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔