عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَبِيعُوا ثِمَارَكُمْ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَتَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تم اپنے پھلوں کو اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک ان کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی اور وہ آفت سے محفوظ نہیں ہو جاتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " . قِيلَ : وَمَا صَلَاحُهَا ؟ قَالَ : " تَذْهَبُ عَاهَتُهَا ، وَيَخْلُصُ صَلَاحُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا التَّمْرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عَطِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پھل کو فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے “ عرض کی گئی اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے اور پک کر تیار ہو جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم کھجور کو فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی “ ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے جبکہ طبرانی کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم کھجور کو فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی “ ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے جبکہ طبرانی کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعَمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک وہ کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ نے کھجور کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” : ” کھجور کو اس وقت تک فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔