حدیث نمبر: 6487
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " . قِيلَ : وَمَا صَلَاحُهَا ؟ قَالَ : " تَذْهَبُ عَاهَتُهَا ، وَيَخْلُصُ صَلَاحُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا التَّمْرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عَطِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پھل کو فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے “ عرض کی گئی اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ وہ آفت سے محفوظ ہو جائے اور پک کر تیار ہو جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم کھجور کو فروخت نہ کرو جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہیں ہو جاتی “ ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے جبکہ طبرانی کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ بھی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6487
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف