حدیث نمبر: 6476
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَبَرِئَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ ، وَأَيُّمَا أَهْلِ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمُ امْرُؤٌ جَائِعٌ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِشْرٍ الْأُمْلُوكِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص چالیس دن تک اناج کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہو جاتا ہے اور اللہ تعالی اس سے لا تعلق ہو جاتا ہے اور جس بھی محلے کے لوگ ایسی حالت میں صبح کرتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی بھوکا شخص موجود ہو ، تو ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبشر املوکی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبشر املوکی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6477
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يُغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِئٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی چیز ذخیرہ کرتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس طرح مسلمانوں کے خلاف قیمتیں زیادہ کر لے گا تو ایسا شخص گناہگار ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6478
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : ثَقُلَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ : هَلْ تَعْلَمُ يَا مَعْقِلُ أَنِّي سَفَكْتُ دَمًا حَرَامًا ؟ قَالَ : لَا ، مَا عَلِمْتُ . قَالَ : هَلْ عَلِمْتَ أَنِّي دَخَلْتُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : مَا عَلِمْتُ . قَالَ : أَجْلِسُونِي . ثُمَّ قَالَ : اسْمَعْ يَا عُبَيْدَ اللَّهِ حَتَّى أُحَدِّثَكَ شَيْئًا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّةً ، وَلَا مَرَّتَيْنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَهُ عَلَيْهِمْ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ غَيْرَ مَرَّةٍ ، وَلَا مَرَّتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَقْذِفَهُ فِي مُعْظَمٍ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو الْمُعَلَّى ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی طبعیت زیادہ خراب ہو گئی تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ۔ انہوں نے کہا: کہ اے سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے حرام طور پر خون بہایا ہے انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! میں نہیں جانتا اس نے دریافت کیا کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کی قیمتوں میں کچھ دخل دیا سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نہیں جانتا پھر انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھاؤ پھر انہوں نے فرمایا : اے عبیداللہ تم سنو میں تمہیں ایک ایسی چیز بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں ( یعنی اس سے زیادہ مرتبہ سنی ہے ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص مسلمانوں کی قیمتوں میں دخل دیتا ہے تاکہ ان کے خلاف انہیں زیادہ کر دے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کو آگ کے ایک بڑے حصے میں بٹھائے “ ۔ عبیداللہ نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ نہیں ( اس سے زیادہ مرتبہ سنی ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے آگ کے بڑے حصے میں ڈال دے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زید بن مرہ ابومعلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے آگ کے بڑے حصے میں ڈال دے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی زید بن مرہ ابومعلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6479
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " احْتِكَارُ الطَّعَامِ بِمَكَّةَ إِلْحَادٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مکہ میں ذخیرہ اندوزی کرنا الحاد ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6480
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ الِاحْتِكَارِ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ بِرُخْصٍ سَاءَهُ ، وَإِذَا سَمِعَ بِغَلَاءٍ فَرِحَ بِهِ ، بِئْسَ الْعَبْدُ الْمُحْتَكِرُ إِنْ أَرْخَصَ اللَّهُ الْأَسْعَارَ حَزِنَ ، وَإِنْ أَغْلَاهَا فَرِحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذخیرہ اندوزی کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ جب آدمی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں سنے تو یہ چیز اسے بری لگے اور جب زیادہ ہونے کے بارے میں سنے تو وہ اس پر خوش ہو ذخیرہ اندوزی کرنے والا بندہ برا ہے کہ اگر اللہ تعالی قیمتیں کم کر دے تو وہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اللہ تعالی قیمتیں زیادہ کر دے تو وہ خوش ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔