کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سودے میں ( اس کو ختم کرنے کا ) اختیار ہونا
حدیث نمبر: 6473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا فِي خِيَارٍ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ : لَا يَفْتَرِقَنَّ اثْنَانِ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ؛ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہوتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہیں ہو جاتے یا پھر یہ ہے کہ وہ بیع خیار ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے نقل کی ہے ( جس میں یہ الفاظ ہیں : ) ” دونوں افراد باہمی رضامندی کے ساتھ ہی ایک دوسرے سے جدا ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6473
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (912) اخرجه احمد فى المسند (8085)»
حدیث نمبر: 6474
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَايَعَ رَجُلًا ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " اخْتَرْ " ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا الْبَيْعُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ساتھ سودا طے کیا پھر آپ نے اس شخص سے فرمایا تم اختیار کر لو ( یعنی اگر تم چاہو ، تو اس کو ختم بھی کر سکتے ہو ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سودا اسی طرح ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1283)»
حدیث نمبر: 6475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ سَهْمَيْنِ بِخَيْبَرَ بِعَبْدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَيْعِ : " اعْلَمْ أَنَّ الَّذِي أَخَذْنَا مِنْكَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي أَعْطَيْنَاكَ ، وَأَنَّ الَّذِي تَأْخُذُ مِنِّي ، فَإِنْ شِئْتَ فَخُذْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَاتْرُكْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسْلَمِيِّ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قیس اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے ایک غلام کے عوض میں خیبر میں موجود دو حصے خرید لئے سودے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا یہ بات جان لو کہ جو چیز ہم نے تم سے حاصل کی ہے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے ، جو ہم نے تمہیں ادا کی ہے اور جو چیز تم مجھ سے لے رہے ہو اگر تم چاہو ، تو لے لو اور اگر چاہو ، تو ترک کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابومعاویہ کے حوالے سے عبداللہ بن قیس اسلمی سے نقل کی ہے ، اور ابومعاویہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف