حدیث نمبر: 6481
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ عَنْ بَيْعِ الْخُمْسِ حَتَّى تُقَسَّمَ . ¤ وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے خمس کو فروخت کرنے سے منع کر دیا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6482
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّهَامُ حَتَّى تُقَسَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ( مال غنیمت کے ) حصوں کو فروخت کیا جائے جب تک وہ تقسیم نہیں ہو جاتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6483
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يُبَاعَ سَهْمٌ مِنْ مَغْنَمٍ حَتَّى يُقَسَّمَ ، وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ ، وَعَنِ الثَّمَرَةِ أَنْ تُبَاعَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَيُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ . ¤ زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ : وَأَحَلَّ لَهُمْ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ كَانَ نَهَاهُمْ عَنْهَا : أَحَلَّ لَهُمْ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَزِيَارَةَ الْقُبُورِ وَالْأَوْعِيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعِمْرَانُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ حُمَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
عمران بن حیان انصاری ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو اس بات سے منع کیا کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کسی حصے کو فروخت کیا جائے یا حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کی جائے جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتیں یا پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کیا جائے جبکہ وہ آفت سے محفوظ ہو چکا ہو ۔ دحیم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے تین چیزوں کو حلال قرار دیا جن چیزوں سے آپ نے پہلے انہیں منع کیا تھا آپ نے ان کے لئے قربانی کے گوشت ، قبروں کی زیارت کرنے اور مختلف قسم کے برتنوں کو حلال قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عمران نامی راوی کے حوالے سے حمید کے علاوہ اور کسی نے اسے نقل نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عمران نامی راوی کے حوالے سے حمید کے علاوہ اور کسی نے اسے نقل نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6484
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ عَلِيًّا ، وَابْنَ مَسْعُودٍ كَانَا يُجِيزَانِ بَيْعَ الصَّدَقَةِ ، وَلَمْ يُقْبَضْ ، وَكَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَشُرَيْحٌ لَا يُجِيزَانِهَا حَتَّى تُقْبَضَ ، وَقَوْلُ مُعَاذٍ ، وَشُرَيْحٍ أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صدقہ فروخت کرنے کو جائز قرار دیتے تھے اگرچہ اسے قبضے میں نہ لیا گیا ہو جبکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح اسے جائز قرار نہیں دیتے تھے جب تک وہ قبضے میں نہیں لے لیا جاتا اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح کا قول سفیان کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔