حدیث نمبر: 6467
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا لَهُ : لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُقَوِّمُ - أَوِ الْمُسَعِّرُ - إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي مَالٍ ، وَلَا نَفْسٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو لوگوں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی کہ اگر آپ ہمارے لئے قیمتوں کا تعین کر دیں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ قیمتیں مقرر کرنے والا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے تا ہم مفہوم یہی ہے ) مجھے یہ امید ہے کہ جب میں تم سے جدا ہوؤں گا تو تم میں سے کوئی ایک شخص مجھ سے مال یا جان کے حوالے سے کسی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6468
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ لَنَا . فَقَالَ : " بَلْ أَدْعُو اللَّهَ " . ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعِّرْ لَنَا . فَقَالَ : " بَلِ اللَّهُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لِأَحَدٍ عِنْدِي مُظْلَمَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں آپ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دوں گا پھر وہ شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ اللہ تعالیٰ ( قیمتوں کو ) بلند کرتا اور پست کرتا ہے اور مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ، تو میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی ہوئی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6469
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ لَنَا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي عِرْضٍ ، وَلَا مَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں قیمتیں زیادہ ہو گئیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالی قیمتیں مقرر کرنے والا ہے تنگی کا شکار کرنے والا ہے اور کشادگی عطا کرنے والا ہے مجھے یہ امید ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ، تو تم میں سے کسی ایک نے عزت یا مال کے حوالے سے کسی زیادتی کی وجہ سے مجھ سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یونس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یونس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6470
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوِّمْ لَنَا السِّعْرَ . قَالَ : " غَلَاءُ السِّعْرِ وَرُخْصُهُ بِيَدِ اللَّهِ ، أُرِيدُ أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْأَصْبَغُ بْنُ نُبَاتَةَ ؛ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیمتوں کا زیادہ ہونا اور کم ہونا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں تو کسی نے مجھ سے کسی زیادتی کے حوالے سے مطالبہ نہ کرنا ہو کہ جو زیادتی میں نے اس کے ساتھ کی ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصبغ بن نباتہ ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ یہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصبغ بن نباتہ ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے بعض حضرات نے یہ کہا: ہے کہ یہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6471
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَعِّرْ لَنَا . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي عِرْضٍ ، وَلَا مَالٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالی ہی قیمتیں مقرر کرنے والا ہے تنگی کا شکار کرنے والا ہے اور کشادگی دینے والا ہے میں یہ امید کرتا ہوں کہ جب میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا تو تم میں سے کسی نے مجھ سے کسی زیادتی کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا ہو گا جو عزت یا مال کے حوالے سے کی گئی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنسان بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6472
وَعَنْ أَبِي بُصَيْلَةَ قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ سِتَّةٍ ، سَعِّرْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَسْأَلُنِي اللَّهُ عَنْ سُنَّةٍ أَحْدَثْتُهَا عَلَيْكُمْ لَمْ يَأْمُرْنِي بِهَا ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبصیلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : چھٹے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے قیمتیں مقرر کر دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھ سے کسی ایسے طریقے کے بارے میں حساب نہیں لے گا ، جس کا میں نے تم پر جاری کیا ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم نہ دیا ہو لیکن تم لوگ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکر بن سہل دمیاطی ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکر بن سہل دمیاطی ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔