کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( منڈی سے باہر سوداگروں ) سے ملنے کی ممانعت اور شہری شخص کا ( دیہاتی ) کی کوئی چیز فروخت کرنا
حدیث نمبر: 6365
عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ أَوْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَفِي الْأَوْسَطِ : بَيْعُ الْحَاضِرِ لِلْبَادِ فَقَطْ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِثْلَ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ سامان سے ( منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ) مل لیا جائے جب تک وہ بازار تک نہیں پہنچ جاتا ، یا یہ کہ شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے معجم اوسط میں ۔ انہوں نے صرف یہ نقل کیا ہے کہ شہری شخص دیہاتیوں کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے ۔
یہ روایت امام بزار نے امام أحمد کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6365
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1271) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (201) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6929) اخرجه احمد فى المسند (11/5)»
حدیث نمبر: 6366
وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " لَا تَلَقَّوُا الْأَجْلَابَ حَتَّى تَبْلُغَ سُوقَهَا ، وَلَا تَبِيعُوا لِلْأَعْرَابِ ، وَإِنْ كَانَ أَخَا أَحَدِكُمْ ، أَوْ أَبَاهُ ، أَوْ أُمَّهُ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی یہ بات نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” سوداگروں سے اس وقت تک نہ ملو جب تک وہ بازار تک نہیں پہنچ جاتے اور دیہاتیوں کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرو خواہ وہ تم میں سے کسی ایک شخص کا بھائی ہو یا کسی شخص کا باپ ہو یا اس کی ماں ہو “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6366
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6367
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ . وَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً أَوْ نَاقَةً - قَالَ شُعْبَةُ : إِنَّمَا قَالَ : نَاقَةً مَرَّةً وَاحِدَةً - فَهُوَ مِنْهَا بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ إِذَا هُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " . قَالَ الْحَكَمُ : أَوْ قَالَ : " صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوداگروں سے ( منڈی سے باہر ) نہیں ملا جائے گا اور شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہیں کرے گا اور جو شخص کوئی تصریہ والی بکری یا اونٹنی خرید لیتا ہے ۔ ( شعبہ نامی راوی نے یہاں پر ایک مرتبہ صرف اونٹنی کا ذکر کیا ہے ، آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ اس جانور کے حوالے سے دو میں سے ایک چیز کا حق رکھے گا جبکہ اس نے اس کا دودھ دوہ لیا ہو ( یا تو وہ اس کو رکھ لے ) اور اگر وہ چاہے ، تو اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ اناج کا ایک صاع واپس کر دے “ ۔ یہاں پر حکم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : شاید انہوں نے یہ نقل کیا کہ کھجور کا ایک صاع واپس کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (314/4)»
حدیث نمبر: 6368
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَلَقَّوُا الْجَلَبَ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( منڈی سے باہر ) سوداگروں سے نہ ملو اور شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6368
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1272) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (17/17)»
حدیث نمبر: 6369
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " دَعُوا النَّاسَ يُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن ابویزید نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کی ہے میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو ! اوہ ایک دوسرے سے ( رزق ) حاصل کر لیں گے جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو اسے اس کی خیرخواہی کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6369
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (354/22 و 355) اخرجه احمد فى المسند (419,418/3)»
حدیث نمبر: 6370
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن ابویزید نے اپنے والد کے حوالے سے ان صاحب سے یہ بات نقل کی ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی عطاء بن سائب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6370
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (259/4)»
حدیث نمبر: 6371
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوا النَّاسَ فَلْيُرْزَقْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
حکیم بن ابویزید ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو ! وہ ایک دوسرے کے ذریعے رزق حاصل کر لیں گے اور جب کوئی شخص اپنے بھائی سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو اسے اس کی خیرخواہی کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب نامی راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (354/22)»
حدیث نمبر: 6372
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوا النَّاسَ يُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ أَخُوكَ فَانْصَحْ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو رہنے دو ! وہ ایک دوسرے سے ( رزق ) حاصل کر لیں گے اور جب تمہارا بھائی تم سے خیرخواہی کا طلبگار ہو ، تو تم اس کی خیرخواہی کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں بھی عطاء بن سائب نامی راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6372
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (303/19)»
حدیث نمبر: 6373
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَشْتَرِ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہ کرے اور اس کے لئے کوئی چیز نہ خریدے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6373
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3547)»